|
اتر گيا تن نازک سے پتيوں کا لباس
کسي کے ہاتھ نہ آئي مگر گلاب کي باس
اب اپنے جسم کے سائے ميں تھک کے بيٹھ رہو
کہيں درخت نہيں راستے ميں دور نہ پاس
ہزار رنگ کي ظلمت ميں لے گئي مجھ کو
بس ايک چراغ کي خواہش بس اک شرار کي آس
تمہارے کام نہ آئے گا جو بھي دانا ہے
ہر ايک شخص پہ کيوں کر رہے ہو اپنا قياس
کسي کي آس تو ٹوٹي کوئي تو ہار گيا
کہ نيم باز دريچوں ميں روشني ہے اداس
وہ کالے کو کي دوري اب ايک خواب سي ہے
تم آگئے ہو مگر کب نہ تھے ہمارے پاس
|