|
اتريں عجيب روشنياں رات خواب ميں
کيا کيا نہ عکس تير رہے تھے، سراب ميں
کب سے ہيں ايک حرف پہ نظريں جمي ہوئي
وہ پڑھ رہا ہوں جو نہيں لکھا کتاب ميں
پاني نہيں کہ اپنے ہي چہرے کو ديکھ لوں
منظر زميں کے ڈھونڈتا ہوں ماہتاب ميں
پھر تيرگي کے خواب سے چونکا ہے راستہ
پھر روشني سي دوڑ گئي سحاب ميں
کب تک رہے گا روح پہ پيراہن بدن
کب تک ہوا اسير رہے گي حباب ميں
يوں آئنہ بدست ملي پربتوں کي برف
شرما کے دھوپ لوٹ آگئي آفتاب ميں
|