وادي خواب ميں اس گل کا گزر کيوں نہ ہوا رات بھر آتي رہي جس کي مہک بستر سے
طعن اغيار سنيں آپ خموشي سے شکيب خود پلٹ جاتي ہيں ٹکرا کے صدا پتھر سے