وہاں کي روشنيوں نے بھي ظلم ڈھائے بہت
ميں اس گلي ميں کيلا تھا اور سائےبہتکسي کے سر پہ کبھي
ٹوٹ کرا گرا ہي نہیں
اس آسماں نے ہوا ميں قدم جمائےبہت
نہ جانے رت کا تصرف تھا يا نظر کا فريب
کلي وہ ہي تھي مگر رنگ جھلملائے بہت
ہواکا رخ ہي اچانک بدل گيا ورنہ
مہک کے قافلے صحرا کي سمت آئے بہت
يہ کائنات ہے ميري ہي خاک کا ذرہ
ميں اپنے دشت سے گزارا تو بھيد پائے بہت
جو موتيوں کي طلب نے کبھي اداس کيا
تو ہم نے بھي راہ سے کنکر سميٹ لائے بہت
|