|
وہ دوريوں کا رہ آب پر نشان کھلا
وہ رينگنے لگي کشتي وہ بادبان کھلا
مرے ہي کان ميں سرگوشياں سکوت نے کيں
مرے سوا کبھي کس سے يہ بے زبان کھلا
سمجھ رہا تھا ستارے جنہيں وہ آنکھيں ہيں
مري طرف نگران ہيں کئي جہان کھلا
مرا خزانہ ہے محفوظ ميرے سينے ميں
ميں سو رہوں گا يونہي چھوڑ کر مکان کھلا
ہر آن ميرا نيا رنگ ہے نيا چہرہ
وہ بھيد ہوں کو کسي سے نہ ميري جان کھلا
جزا کہيں کہ سزر اس کو بال و پر والے
زميں سکڑتي گئي، جتنا آسمان کھلا
لہو لہو ہوں سلاخوں سے سر کو ٹکرا کر
شکيب باب قفس کيا کہوں کس آن کھلا
|