|
يا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتي تھيں شاخیں
يا ميرے بلانے سے صبا تک نہيں آتي
کيا خشک ہوا روشنيوں کا وہ سمندر
اب کوئي کرن آبلہ پا تک نہيں آتي
چھپ چھپ کے سدا جھانکتي ہيں خلوت گل ميں
مہتاب کي کرنوں کو حيا تک نہيں آتي
يہ کون بتائے عدم آباد ہے کيسا
ٹوٹی ہوئي قبروں سےصدا تک نہيں آتي
بہتر ہے پلٹ جائو سيہ خانہ غم سے
اس سرد گھپا ميں تو ہوا تک نہيں آتي
|