|
ياديں ہيں اپنے شہر کي اہل سفر کے ساتھ
صحرا ميں لوگ آئےہیں ديوار و در کے ساتھ
منظر کو ديک کر پس منظر بھي ديکھئے
بستي نئي بس ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ
سائے ميں جان پڑ گئي ديکھا جو غور سے
مخصوص يہ کمال ہے اہل نظر کے ساتھ
اک دن ملا تھا بام پہ سورج کہيں جسے
الجھے ہيں اب بھي دھوپ کے ڈورے کگر کےساتھ
اک ياد ہے کہ دامن دل چھوڑتي نہيں
اک بيل ہے کہ لپٹي ہوئي ہے شجر کے ساتھ
اس مرحلے کو موت بھي کہتے ہيں دوستو
اک پل ميں ٹوٹ جائيں جہاں عمر بھر کے ساتھ
ميري طرح يہ صبح بھي فنکار ہے شکيب
لکھتي ہے آسماں پہ غزل آب زر کے ساتھ
|