|
يہ جلوہ گاہ ناز تماشائيوں سے ہے
رونق جہاں کي انجمن آرائيوں سے ہے
روتے ہيں دل کے زخم تو ہنستا نہيں کوئي
اتنا تو فائدے مجھے تنہائيوں سے ہے
ديوانہ حيات کو اک شغل چاہئيے
نادانيوں سے کام نہ دانائيوں سے ہے
قيد بياں ميں آئے جو ناگفتني نہ ہو
وہ رابطہ کو قلب کي گہرائيوں سے ہے
نادام نہيں ہوں داگ فرمائيگي پہ ميں
تيرا بھرم بھي ميري جبيں سائيوں سے ہے
|