دل کو اسي فريب ميں رکھا ہے عمر بھر
اس امتحاں کے بعد کوئي امتحاں نہيںاس سرزمين کا عالم بنگانگي نہ پوچھ
مہمان بن کے رہتے ہيں اہل وطن يہاں
سمجھ سکوں نہ ميں يہ بھي کہ پابجولاں ہوں
اس اہتمام سےلايا گيا ہوں زندان تک
کيوں نہ آئين قفس ميں يہ اضافہ ہوجائے
وقت پر منت صياد بھي ہوسکتي ہے
دل عاشق سے چرايا ہو خوں ہے شايد
اس قدر شوخ کہيں رنگ حنا ہوتا ہے
رنگ ہم نے زمانہ سازي کا
جبر پر بھي نہ اختيار کيا
شور محشر ہي جگائے تو جگائے اسکو
جس کو سائے ميں تري زلف کے نيند آئي ہے
|