|
بنکاک کے بجھے بجھے
شعلے
راجہ اندر:
ہماري پہلي منزل بنکاک تھي، اور بنکاک تک ہميں تھائي ائيرويز نےلے جانا تھا،
فلپس کپمني نے اس مطالعاتي اور تفريحي دورے کا اہتمام ان 34 ڈيلروں کي ضيافت
طبع کيلئے کيا تھا، جن کا تعلق ملکے کے چاروں صوبوں سے تھا اور جنہوں نے خود کو
بہتر ڈيلر ثابت کيا تھا، ميري حيثيت مبصر کي تھي، گروپ ميں جوان بھي تھے
بوڑھے بھي، زاہد تھے، رند بھي اوروہ بھي جن کيلئے شاعر نے کہا ہے۔
رند کے رند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئي۔
سو ميرے آئندہ کئي روز رنگ برنگے انسانوں کي اس کاک ٹيل کے ساتھ بسر ہونا تھے،
نشہ تو آنا ہي تھا۔
جہاز پرواز کيلئے اپنے پر پھيلائے اور تھوڑي دير بعد روشنيوں سے جگمگ
جگمگ کرتا کراچي ہماي نظروں سے اوجھل ہوتا چلاگيا، روشنيوں کا شہر اب ويسے بھي
آنکھوں سے اوجھل ہوتا چلا جارہا تھا اور اس کي جگہ اندہيروں کے اس شہر نے لے
لي، جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائي نہيں ديتا، پرواز نارمل ہوتے ہي تھائي
ميزبان لڑکيا حرکت ميں آگئيں اور انہوں نے ساق گري شروع کي، ان تھائي
لڑکيوں کے خدوخال ويسے تھے جسيے تھائي لڑکيوں کے ہوتے ہيں، ليکن تھوڑي ہي دير
بعد ان کي ريشم ايسي اکن جس کي تعريف وارث شاہ نے بھي کي ہے، حسن اخلاق، نرم و
نازک ہاتھ اور ان ہاتھون ميں پيش کئے گئے، پيمانوں کے زير اثر مسافروں نے محسوس
کيا کہ وہ پريوں کے جھرمٹ ميں ہيں ، چناچہ ان ميں کئي ايک نے خود کو باقاعدہ
راجہ اندر محسوس کرنا شروع کرديا، ميرے کچھ ہم سفر للچائي نظروں سے مينا وجام
اور اس کے ساتھ ايک دوسرے کو کنکھيوں سے ديکھتے رہے کہ شايد گروپ ميں سے
کوئي جرات رندانہ سے کام ليتے ہوئے مے نوشي آغاز کرے تو وہ بھي ہاتھ بڑھا کر
جام اٹھاليں مہر ہم لوگ اتنا اللہ سے نہيں ڈرتے جتنا ايک دوسرے سے ڈرتے ہيں
چناچہ الحمد اللہ سب نے کوک پر اکتفا کيا۔
|