Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
  اردوادب | سفر نامہ |  عطاء الحق قاسمي
دنيا خوبصورت ہے

تو پھر کيا کيا جائے؟
ميں نے محسوس کيا کہ جس طرح ترقي پزير ملک کي سياحت کے دوران مجھے اپنے وطن کي پسماندگي کا احساس زيادہ شدت سے ہونے لگتا ہے، کچھ يہي صورت حال مرزا عبدالقيوم کے سات بھي تھي، وہ مجھ کافي ڈسٹرب نظر آرہے تھے۔
بھائي جان آپ کے خيال میں ہم لوگوں کي پسماندگي کي وجہکيا ہے؟
بالآخر قيوم کے دل کي آواز انکي زبان پر آگئي، اور يہ بھائي جان والا شاخسانہ يہ ہے کہ قيوم صاحب جن کي عزت کرتے ہوں، انہيں بھائي جان کے منصب پر فائز کرديتے ہيں۔
ہماري پسماندگي کي ايک وجہ تو يہ ہے کہ جس طرح کچھ عرصہ قبل يونيورسٹي ميں ہہڈ شپ کو بائي روٹيشن کرديا گيا تھا، اس طرح قوموں کي ہيڈ شپ بھي قدرت بائي روٹيشن کرتي ہے اور ہم مسلمان اپني باري بھگتنا چکے ہيں ميں نے ہنستے ہوئےکہا دوسري وجہ آپ بتائي۔
ميرے خیال ميں اس کي وجہ محض قيادت کا فقدان ہے قيوم نے بٹ صاحب کي طرف ديکھتے ہوئے کہا جو بيٹھے بيٹھے اونگھ رہے تھے، اس وقت عالم اسلام ميں بھي قيادت کا بحران ہے اور ہماري پاکستاني قوم ميں بھي ايزياں  اٹھا اٹھا کر کسي مخلص قيادت کي راہ ديکھ رہي ہے، سنگاپور کيا تھا؟ اس ميں بسنے والے لوگ ہم سے بھي گئے گزرے تھے اسے صرف ايک شخص لي کيان لو نے ترقي کي راہ پر ڈالا ہے، اب وہ شخص وزير اعظم نہيں ہے، اس نے خود دوسروں کو آگے آنے کا رستے ديا اور جو آگے آئے ہيں ان کے دلوں ميں بھي ترقي کي شمع اتني  روشن ہوچکي ہے کہ اب يہ قوم پيچھے نہيںجاسکتي لي کيان لو ايک بزرگ دانا کي طرح اب بھ ان کي رہنمائي کررہا ہے، ميں خوش فہم نہيں ہو ليکن مجھے يقين ہے کہ ہماري قوم دنيا کي بہترين قوموں ميں سے ہے اور اسے صرف ايک شخص کي رہنمائي کي ضرورت ہے، جو منزل تک اس کي رہنمائي کرسکے۔
ميرے خيال ميں يہ شارٹ کٹ ہے اور شارٹ کٹ کے ذريعے آنے والے انقلابات ديرپا نہيں رہتے، ميں نے قيوم صاحب سے اختلاف کيا، افراد پ انحصار صرف ايشيائي قوموں نے کيا ہے جبکہ اہل مغرب جو اس وقت يقيني طور پر دنيا کي امامت کرہے ہيں، صديوں کي جنگ و جدل ، افرا تفري اور خانہ جنگيوں کے بعد ايک ايسا نظام استوار کرنے ميں کامياب ہوگئے ہيں جو بہت ديرپا ہے، وہاں کسي فرد کے آنے جانے سے کوئي فرق نہيں پڑتا جبکہ جن ملکوں کي مثاليں ملتي ہيں، آپ کے ذہن ميں ہيں وہاں دو چار برس کے بعد زوال کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
تو گويا آپ کے خيال ميں معروف جمہوريت ہي ہمارے مسائل کا حل ہے؟ قيوم صاحب نے پوچھا يقينا ليکن معروف نہيں حقيقي جمہوريت وہي جمہوريت جس ميں کاشت کاروں کي نمائندگي ان کے حقوق غصب کرنے والے جاگير دار نہ کريں، مزدور کا نمائندہ مزدور دشمن نہ ہو اور تعليم يافتہ افراد کي ترجماني  جہلا  کے ذمے نہ ہو، جس ميں جمہور کو انتخاب کرنےکے علاوہ انتخاب لڑنے کي سہولت بھي حاصل ہو۔
ہم اس وقت ايک ايسے علاقے سے گزر رہے تھے جو کچھ اپنا اپنا سالگتا تھا، بلند و بالا عمارتوں کے بجائے درميانے درجے کي عمارتيں نظر آرہي تھيں، اکاد کا چيٹيوں کو چھوڑ کر زيادہ چہرے مانوس سے لگتے تھے، ان ميں پاکساني، بنگالہ ديشي اور بھارتيوں کي اکثريت تھي، ايک اسٹور کے پاس ڈرائيور نے بريک لگائي۔
مصطفے اسٹور اس شارٹ ہينڈ ميں ہميں اطلاع دي ہم کرايہ ادا کرکے فٹ پاتھ پر آگئے۔

پچھلا صحفہ (23) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu