Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
  اردوادب | سفر نامہ |  عطاء الحق قاسمي
دنيا خوبصورت ہے

ہم کيا ہماري حجرت کيا؟
آپ کے ذہن ميں جمہوريت کا جو تصور ہے، مجھے اس سے زيادہ اختلاف نہيں تاہم اس مسئلے پر ابھي آپ سے بات ہوگي، قيوم صاحب نے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے کہا، مصفطے اسٹور سے باہرکرنسي تبديل کرنے والوں کي دکانيں تھيں، ايک سنگاپوري ڈالر ہمارے بيس روپے کے برابر تھا اور ڈيڑھ سو سنگاپوري ڈالر ايک سو امريکي ڈالر کے ہم مرتبہ تھے، اسٹور کے سامنے انگولا مسجد تھي اور يہ الفاظ اردو ميں لکھے ہوئے تھے ۔ اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے ساتھ دنيا کے کونے کونے ميں پہنچ چکي، اس سے اردو کي مقبوليت کا اتنا اندازہ نہيں ہوتاجتنا اندازہ ہم اردو والوں کي رد بدري کا ہوتا ہے، بقول افتخار عارف۔
شکم کي آگ لئے پھر رہي ہے شہر بہ شہر
سگ زمانہ ہيں ہم کيا ہماري ہجرت کيا؟
مسجد سے باہر اور مسجد کے صحن ميں تلاش رزق ميں اپنے گراں سے نکے ہوئے خستے حال پاکستاني، بنگلہ ديشي اور بھارتي مسلمان سروں پر کپڑے کي ٹوپياں پہنے اور دھوتي باندھے اخبار پڑھنے يا وقت گزاري کيلئے گپ شپ ميں مشغول تھے۔
سہگل ہون نوحي جي کردا اے ساڈاوي۔
مصطفے اسٹور کئي منزلہ ہے اور ہر طرح کے سامان سے لدا ہوا ہے، يہاں صيح معنوں ميں کھوے سے کھوسے چھلتا ہے، کيش وصول کرنے والوں کو کان کھجلانے کي فرصت نہيں ملتي، مجھے سمجھ ميں نہيں آتا اسکا مالک اتني دولت کا کيا کرتا ہوگا، ميرے پاس اگر بندھي ٹکي آمدني سے چار پيسے زيادہ آجائيں، تو ميرے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہيں اور جب تک انھيں ٹھکانے نہ لگالوں مجھے چين نہيں پڑتا ہے، مجھے کبھي سرمايہ دار بن کر ديکھنا چاہے تاکہ پتہ تو چلے کہ اس بعد انسان کي جون ميں تبديلياں کيسے آتي ہيں، اس خواہش کا اظہار پنجابي کے شاعر ابوذري نے بھي اپنے اس شعر ميں کيا ہے۔

سہگل ہون نوں جي کردا اے ساڈا وي
کٹے چون نوں جي کردا اے ساڈا وي

ہمارے گروپ کے کئي ارکان ہم سےپہلے مصفطے اسٹور ميں خريداري کيلئے پہنچے ہوئے تھے، يہ اسٹور سنگاپور کے دوسرے کاروباري مراکز کے مقابلے ميں يقينا سستا ہوگا، تبھي تو اس کي اتني دھوم ہے، ليکن مجھے يہ شہر دوبئي وغيرہ کے مقابلے ميں بالکل سستا نہيں لگا، ميں نے يہاں ايک جين پانچ سو روپے ميں خريدي کہ سفر کے دوران يہ ضرورت تھي جبکہ يہ ہي جين پاکستان ميں اس سے قميت پر مل سکتي تھي، ميں نے جين کے ساتھ ايک اسپورٹس شرٹ لي اور يہ بھي کوئي سستي نہيں تھي، قيوم صاحب کا نقطہ نظر  يہ ہے کہ پاکستان ميں اس کي قيمت کيا ہوگي تاہم خريداري کے حوالے سے قيوم صاحب کا نقطہ نظريہ ہے کہ اچھي چيز کو مومن کي گم شہد ميراث سمجھو، چنانچہ جہاں نظر آئے ، جتنے دام بھي ادا کرنے پڑيں حاصل کرلو۔

پچھلا صحفہ (24) اگلا صفحہ
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu