 |
|
| دنيا خوبصورت ہے |
اپنے مرزا صاحب:
وفد کے قائد اطہر حليم اپني نشست پر اب اطمينان اور سکون سے بيٹھے تھے، جو
اطمينان اور سکون زچہ، زچگي کے مراحل طے کرنے کے بعد محسوس کرتي ہے، ہم
سب لوگوں نے جہاز ميں سوار ہونے تک ان کي مت ماري ہوئي تھي، اور ظاہر ہے ايسے
ہونا ہي تھا، کہ يہ کوئي ملک کي سربراہي تو نہيں تھي، کہ سربراہ کا مسائل سے
کوئي تعلق ہي نہ ہو، ميرے ہم سفروں ميں سرگودھا کے حميد وائيں، مجيد وائيں اور
شاہد بھي تھے، وائيں فيملي سے ہمارے گھريلوں تعلقات ہيں، ليکن ان کے ساتھ زيادہ
وقت گزارنے کا موقع اس سفر کے دوران ہي ميسر ہو اور ميں نے محسوس کيا کہ انکا
ظاہر ہي نہيں ان کا باطن بھي خوبصورت ہے، شاہد سے ميرا پہلا تعرف تھا، يہ ہنس
مکھ نوجوان سارے سفر کے دوران گلاب کي طرح کھلتا اور کھلکھلاتا رہا، باقي
مسافروں کا تعارف ميں آپ کو باري باري کرائوں گا ليکن اس سے پہلے مرزا عبد
القيوم کا تعارف ضروري ہے، چند برس پيشتر مرزا صاحب سے تعلق پيدا ہوا تو
برسوں پراني دوستيوں پر حاوي ہوگيا، وہ گذشتہ تيس برس سے ميرے کالم کے قاري
ہيں، يہ قاري کا لفظ تو ميں نے استعمال کيا ہے وہ اس کيلئے حافظ کا لفظ استعمال
کرتے ہيں، معذرت کے ساتھ ليکن کاروباري حضرات ميں اسيے صاحب دل بہت کم ہوتےہيں
جو دل کے معاملات ميں بھي کاروبار سے صرف نظر کرسکيں، کسي زمانے ميں ميرے پاس
اسکوٹر ہوتا تھا، ايک دفعہ اس کي ورر ہالنگ کي نوبت آگئي تو اسپئير پارٹس
خريدنے ميں ميکاوڈروڈ گيا، جب سيلز ميں بل بنناے لگاتو دکان مالک آگا مجھے ديکھ
کر وہ ديوانہ اور ميري لپکا اور انتہائي گرم جوشي سے مصافحہ کرتے ہوئے
کہا قاسمي صاحب ميں آپ کي تحريروں کا عاشق ہوں، ميں کتنا خوش نصيب ہوں کہ آج آپ
سے ملاقات ہوگئي پھر اس نے چائے کا آرڈر ديا اور دوران وہ مسلسل ميرے بارے ميں
ايسے تصريفي کلمات کہتا رہا جن کا ميں خود کو مستحق نہيں سمجھتا تھا، اتنے ميں
سيلز ميں نے بل بنا کر مالک کو دي اتو وہ غصے سے لال پيلا ہو کر کہنے لگا، يہ
کيا بنا کر لائے ہوں، جانتے نہيں يہ عطاالحق قاسمي صاحب ہيں جو ہماري قوم
کا سرمايہ ہيں، پانچ سو بارہ روپے چھ آنے ميں سے يہ بارہ روپے چھ
آنے نکالو اور دوبارہ بل بنائو، تم لوگ قوم کے محسنوں کي عزت کرنا جانتے ہي
نہيں ۔۔۔بے وقوف جاہل، مجھے يوں لگا جيسا اس ساري گفتگو ميں صرف يہ ہي آخري دو
لفظ ميرے لئے ہيں، خير يہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے، قيوم کي محبت مختلف
نويت کي ہے وہ کاروبار ميں بھي محبت کے قائل ہيں، جبکہ يار لوگ محبت ميں
بھي کاروبار کرتے ہيں، انکا تعلق پنجاب کے ايک پس ماندہ قصبے پسرور سے ہے اور
وہ اپنے اس قصبے کو نہيں بھولتے، ہر سال پوري تحصيل ميں امتيازي نمبروں سے
امتحان پاس کرنے والے طلبہ و طالبات ميں لاکھوں روپے کے انعمات تقسيم کرتے ہيں،
گورے چٹے، خوش لباس اور خوش کلام مرزا عبدالقيوم کو اپنے علاقے ميں ايک ہيرو کي
حيثيت حاصل ہے۔ |
|
 |