Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
  اردوادب | سفر نامہ |  عطاء الحق قاسمي
گوروں کے ديس ميں
کراچي سے ہيتھرو تک
يہ صورت اس وقت پيدا ہوتي ہے جب چھوتي کار تيز اور بڑي کار کو آھستہ چلايا جائے بخش کے پاس بڑي کار ہے۔ مگر نہ وھ اسے آھستہ چلاتے ہيں اور نہ تيز چلاتے ہيں بس يہ ہے کھ جب بريک پر پائوں رکھنا ہو بخش صاحب ايکسيليٹر پر پائوں رکھ ديتے ہيں اور جب پائوں ايکسيليٹر پر ھونا چائيے اس وقت بخش صاحب کا پائوں بريک پر ہوتا ہے۔
تاہم بخش صاحب کا کمان فن يہ ہے کہ ان کا آج تک چالان نہيں ہوا جيسے آج تک ہمارے ملک کے صاحبان اقتدار کا کبھي چالان نہيں ہو سکا جو ملک اسي طرح چلاتے ہيں۔ جس طرح بخش لائل پوري کار چلاتے ہيں۔لندن کي پراني طرز کي سياہ عمارتوں اور تنگ گلي کوچوں سے گزرتے ہوئے اب ھم ٣٣٧ ميٹر روڈ ويٹ بانسلو کے سامنے کھڑے تھے ۔يہ گھر مجھے بہت عزيز ھے ۔ ميں نے گذشتہ برس بھي اس گھر میں دو ھفتے گذارے تھے ۔ سويٹي بيٹي، فرحانہ بيٹي ، شاہد ، شفقت ، بھابي شميم اور مور اوور کے طور پر بخش لائل پوري کي پر خلوص مھمانداري کے طفيل مجھے اپنے گھر سے ہزاروں ميل دور يہ گھر اپنا سا لگتا ہے۔

بزرگ خراب نکل آيا

ميرے خيال مي يے مثال صحيح نہيں کيونکہ اپنے گھر ميں انسان کي اتني عزت کہاں ہوتي ہے ۔ بہر حال ايک بيگ ميں نے اٹھايا اور ايک بخش لائل پوري نے اور ہم گھر ميں داخل ہو گئے اتفاق سے اس روز شفقت ، شاہد فرحانہ، سويٹي اور بھابي گھر پر تھے شفقت اور شاہد بخش کے بڑے بيٹے ہيں صحيح معنو ں ميں پنجاب کے گھبرو جوان ۔شفقت کي شادي گذشتہ برس فرحانہ سے ہوئي اور اب وہ ايک خوبصورت بيٹي کا باپ ہے۔ چندا بخش کا سب سے چھوٹا بيٹا ہے اور سويٹي لاڈلي بيٹي۔ يہ خاندان برطانيہ ميں مقيم ان چند پاکستاني خاندانوں ميں سے ہے جو برطانيہ ميں تمام تر خوشحالي کے باوجود واپس پاکستان جا کر آباد ہونے کي خواہش رکھتا ہے۔ جو پاکستاني بچہے برطانيہ ميں پيدا ہوتے اور يہيں پلتے بڑھتے ہين وہ پاکستان واپس جانے کا نام تک نہيں ليتے بلکہ ان کے والدين اپنے بچوں کي ضد اور ان کے قانوني حق کي وجہ سے بھي وطن واپس نہيں آ سکتے جبکہ بخش صاحب کے ہان سلسلہ الٹا ہے۔ ان کے بچے پاکستان ميں آباد ہونے کي خواہش رکھتے ہيں مگر والد صاحب پاکستان کے لئے دن رات تڑپنے کے باوجود اس مرحلے پر واپس جانے کے حق ميں نہيں يعني بعض لوگوں کي اولاد خراب نکل آتي ہے يہاں بزرگ خراب نکل آيا ہے۔

تقريب کچھ تو بہر ملاقات چائيے افراد خانہ کے پرجوش استقبال سے مجھے محسوس ہوا کہ گذشتہ ايک برس کے دوران ان کي مشرقي اخلاقيات کمزور نہيں۔ مضبوط ہوئي ہيں بچون نے ميرا سامان ميرے کمرے ميں پنچا يا اور ميں چائے کي گرم چسکياں ليتے ہوئے گپ شب ميں مشغول ہو گيا۔ بخش کا گھر بھي اپني تعمير کے حوالے سے برطانيہ کے روٹين گھروں جيسا ہے يعني گھرو ميں داءل ہوتے ہي پائوں اوپر کي منزل پر جانے والي سيڑھيوں پر پڑتا ہے جو کم جگہ ميںبنائي گئي ہوتي ہيں اور ان پر چڑھنا اور اترنا کسي موتے انسان کے بس کا روگ نہيں۔ اوپر دو چھوٹے چھوٹے کمرے ايک گيٹ روم جس ميں ايک گيسٹ اور اس کي چارپائي آسکتي ہے۔ درميان ميں باتھ روم جس ميں موجود تب کے گرد کرٹن نہين ہوتا کيونکہ برطانيہ ميں نہانے کا نہين اشنان کرنے کا رواج ہے۔ ايک بيسن جس ميں گرم اور ٹھنڈے پاني کي ٹوٹياں الگ الگ ہوتي ہين مگر مکسر نہيں ہوتا ٹھنڈا اور گرم پاني بيسن ميں جمع کر کے منہ پر پاني کے چھٹے مارے جاتے ہيں ۔باتھ روم کے ساتھ ايک چھوٹا ٹائلٹ جس کے تنگي دامان کي وجہ سے کئي قسم کي تنگياں پيدا ہو جاتي ہيں ۔ اس ميں داخل ہونے اور نکلنے کي پريکٹس ضروري ہے۔گرائونڈ فلور پر ايک ڈرائنگ روم ، ٹي وي لائونج اور کچن گھر کے پچھواڑے مين ايک لان برابر والے کمرے کے لان سے اسے عليحدہ کرنے کے لئے لکڑي کي چھوٹے قد کي باڑ جس کے آرپار ديکھا جا سکتا ہے ۔ گرميوں ميں ميميں ادھورے کپڑوںميں باھر آکر ليٹ جاتي ہيں اور ان کے پاکستاني ھمسائےپورے کپڑے پہنے کالي عينک لگائے دھوپ سينکنے اپنے لان ميں آن کھڑے ہوتے ھيں۔ تقيب کچھ تو بہر حال ملاقات چائيے۔ بخش لائل پوري عمر ميں مجھ سے پندرہ سال بڑے ھيں ۔مگر ان سے بے تکلفي کا رشتہ ہے ميں بھابي اور بچوں سے گپ شپ کے بعد ڈرائنگ روم ميں قالين پر آکر ليٹ گيا ۔ بخش صوفے پر بيٹھے کاغذ ميں تمباکو بھر بھر کر اپنے ہوم ميڈ سگريٹ پيتے رہے جنہين تھوڑي ھوڑي دير بعد انہيں دوبارہ جلانا پڑتا۔

پچھلا صحفہ (1) اگلا صفحہ

New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu