 |
|
| گوروں کے ديس ميں |
|
انقلابي شاعري ۔۔۔۔اور شاعريبخش
انجمن ترقي پسند مصنفين برطانيہ کے صدر ہيں ،بعض ترقي پسندوں کے دو غلے کردار پر
بڑے جارحان انداز ميں تنقيد کرتے ہيں انہيں اپني زبان پر قابو نہيں ہے۔ جب تک دل کي
بات مخاطب کے منہ پر نہ کہہ ليں اتني دير بے چين سے پہرتے ہين ۔ اس کے بعد ان کا
مخاطب منينوں بے چين رھتا ہے۔ آج کل کے ماسکو برانڈ پاکستاني ترقي پسندوں کے بر عکس
پاکستان سے والہانہ محبت رکھتے ہيں اور اس ضمن مين کسي قسم کے کمپرومائز کے قائل
نہيں غزل اور نظم کے بہت خوبصورت شاعر ہيں اور ابھي تک ان کے تين مجموعے لہو کا
خراج، زندان شب اور باد شمال شاعري پر مشتمل ہيں ۔ بخش رات کو ايک پليٹ سلاد اور
بھنا ہوا گوشت کھاتے ہيں اس وقت وہ ڈنر ميں مشغول تھے جبکہ بھابي نے کھانے کے ضمن
ميں خصوصي اھتمام کيا تھا۔
ھمدم درينہ
کھانے کے بعد ميں نے اپنے عزيز دوست اعجاز احمد
اعجاز کو فون کيا مگر وہ گھر پر نہي تھا۔ اعجاز کے والدين ١٩٣٠ميں ترک وطن کر کے
متحدو ھندوستان سے يوگنڈا چلے گئے تھے ۔ ١٩٦٢ميں اس کے والد نے اسے تعليم کے حصول
کے لئے پاکستان بھيجا جہاں اس نے لاہور کے ايم اے او کالج ميں داخلہ ليا جہاں ميں
زير تعليم تھا۔ اعجاز سے دوستي کا آغاز وہيں سے ہوا وہ تعليم حاصل کر کے واپس
يوگنڈا چلا گيا بعد ميں جب عدي امين نے غير ملکيوں کو يوگنڈا سے نکالا تو اعجاز
اپنے خاندان کے ساتھ برطانيہ ميں سکونيت پزير ہو گيا۔ اب تيس برس سے يہين مقيم ہے ۔
تيرا مکھڑا سلونا کيا کروں ميں
يہ مٹي کا کھلونا کيا کروں ميں
ميرے بالوں ميں چاندي آ گئي ھے
تيري زلفوں کا سونا کيا کروں ميں
بے پناہ پر خلوص انسان دوستوں پر جان چھڑکتا ہے ،
قانوني طور پر پاکستان سے کبھي کوئي رشتہ نہيں رہا ليکن کڑ پاکستاني اور شديد
جذباتي مسلمان ہے۔ اعجاز کے شوق بڑے متنوع ہيں شاعري کرتا ہے مشارعوں ميں شاعروں پر
ھوٹنگ کرتا ہے فلسفے اور جديد علوم کي کتابيں پڑھتا ہے دوستوں کي محفليں جماتا ہے۔
اسپورٹس ميں حصہ ليتا ہے ۔ گذشتہ دنوں اس نے برطانيہ ميں ہونے والي سب سے لمبي ريس
يعني چھتيس ميل دوڑ ميں حصہ ليا پاک باز ہے پاني کے علاوہ کچھ نہيں پيتا اور بيوي
کے علاوھ کسي کو کچھ نہيں سمجہتا يے شخص ترقي نہين کر سکتا ترقي کرنے والوں کے لچھن
کچھ اور ھي ھوتے ہيں۔
آزادياں سلب کرنے والے رشتے
ميں نے گھڑي ديکھي تو اس وقت رات کے ساڑھے نو بج
رہے تھے مگر سورج ابھي غروب نھيں ہوا تھا خدا کا شکر ھے ليٹ سھي مگر اب سورج يھاں
غروب تو ھو جاتا ھے جب کہ ايک وقت تھا سلطنت برطانيھ پر سورج غروب ہي نہيں ہوتا
تھا۔ سفر کي تھکن اب مجھ پر غالب آ رہي تھي حتي کہ نيند کي وجہ سے ميري آنکھيں بند
ہونے لگيں۔ ميں نے بخش سے اجازت لي اور اپنے کمرے ميں جا کر چارپائي پر ليٹ گيا۔
ميں اپنے گھر سے کتني دور ہوں گھر ميں کوئي پريشاني نہ ہو۔ يہ سوچ کر نيند مجھ سے
دور ہوتي چلي گئي ميں سيڑھياں اتر کر نيچے آيابخش ہوم ميڈ سگريٹ کے سوتے لگا رہے
تھے۔ کيا بات ہے سوئے نہيں ہمارے گھر کے قريب ايئر پورت ہے جہازوں کے شور نے تو
نہيں جگا ديا؟ بخش نے پوچھا۔ نہيں ايسي کوئي بات نہيں ميں پچھلے سال بھي ان جہازوں
کو بھگتا ہوں لگتا ہے کم بخت پائلٹ جہاز ميرے کمرے ميں لينڈ کرانے کا ارادہ رکھتا
ھے۔ تو پہر کيا مسئلہ ہے بس گھر والوں کا خيال آ گيا تہا۔ ميں وطن سے بہت دور ہوں
گھر ميں کوئي مسئلہ نہ ہو ۔
|
|
 |