|
|
| اپوپٹوسيسز |
سوکھي پتيوں کو نئي کونپلوں کے خاطر مرنا ہوگا تو دکھ کيا؟ اللہ
دتا بڑ بڑانے لگا، بوڑھے برگد سے گرتي ہوئي خزاں رسيدوں پتياں کتنے ہي وقتوں سے
چپکے چپکے مرتي تھيں۔۔۔۔کتنے ہي وقتوں سے وہ خود ميں پيدا ہوئي تھيں۔۔۔۔۔کتنے ہي
وقتوں سے نئے جيون کي خوشي ميں پراني موت ملي تھيں۔۔۔۔تو آج يہ بوڑھا برگدا اپنے
مرنے پر خوفزدہ کيوں؟ کيا وہ نہيں جانتا اپوپٹوسيسز اللہ
دتا آہستہ آہستہ سر ہلانے لگا اور بار بار دہرانے لگا، اپوپٹوسيسز۔۔۔۔۔اپوپٹوسيسز۔۔۔اپوپٹوسيسز۔۔۔
اچانک کھڑکي سے آنے والے تيز ہوا کے جھونکے سے پاگل خانے کي چھت پر تنگا ہوا بلب
زور زور سے ہلنے لگا، کمرے کي بوسيدہ ديواريں بلب کي ٹمٹاتي روشني سے سايوں ميں بٹ
کرناچنے لگي، اللہ دتا چپ ہوگيا اور وحشت ناک نظروں سے ناچتے ہوئے سايوں کو
تکنے لگا۔
کرسي پر بيٹھا ہوا ماہر نفسيات چونک کر اللہ دتا کے بدلتے ہوئے تاثرات ديکھنے لگا،
اللہ دتا اپني جگہ سےاٹھا اور آہستہ آہستہ ديوار پر رينگتے ہوئے سايوں کو اپنے
دونوں ہاتھوں کي ہتيلوں سے ٹٹولنے لگا، کئي بار اس نے چاہا کہ ان سايوں کو اپنے
دونوں ہاتھوں سے تھام لے مگر سائيے اس کي انگليوں سے پھسل کر دوبارہ ديواريوں پر
ناچنے لگے، اللہ دتا بے بس آنکھوں سے سايوں کو ديکھتے ہوئے رونے لگا اور پھر بند
آنکھوں ميں جھانک کر خود سے باتيں کرنے لگا۔۔۔۔کالے سائے ديواروں پر ناچتے
ہيں۔۔۔۔ان ديواروں کو ڈھادو۔۔۔۔يہ ديواريں آکاشا کو تقسيم کرتي ہيں۔۔۔۔آکاشا۔۔۔۔جو
مقدس روح ہے اس کائنات کي۔۔۔آکاشا محبت ہے۔۔۔اور يہ کالے سائے نفرت ہيں يہ کہہ کر
اللہ دتا اپني سرخ خشمگين آنکھيں کھول کر ماہر نفسيات کو تکنے لگا اور پھر اچانک اس
کي طرف اپني انگلي نچا کر کہنے لگا۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |