|
|
| بے زميني |
کتابوں کے ہر صحفے پر لفظ روتے تھے، ديو مالائي کہانياں ہو، يا آسماني صحيفے ،
پيغمبروں کے قصے ہو ہا زماں و مکاں کے جھگڑے ہر لفظ آنسو کي شکل بن بن کر
بہتا تھا۔۔۔۔۔پھر وہ ان آنسوں کو ايک لڑي ميں پرونے لگي مگر جو مالا بني وہ تاريخ
کے ايک ہي لفظ کو بار بار دہراتي تھي۔۔۔۔بے زميني نسل کشي ہے، مگر وہ تو اپني نسل
کشي نہيں چاہتي تھي۔۔۔تو پھر وہ ايک دن اپنے پھولوں کو سميٹ کر آئنے کے سامنے آکھڑي
ہوئي اور جب اس نے بجائے خود کے، محض ايک عکس کو ديکھا تو اسے احساس ہوا جيسے بے
زمين نے اسے بے وجود کر ديا ہے، وہ ان ہي ہوائوں ميں تحليل ہوگئي تھي جن سے کبھي اس
نے خود کو بچانے کيلئے ہجرت کي تھي۔۔۔۔تو کيا پھر ايک نئي ہجرت؟ اس نے سوچا مگر
نہيں، ايسا ہوتا تو آج ميرا وجود ہوتا۔۔۔۔پھر وقت کے دامن سے ميرا ساتھ کب چھوٹا
اور کيوں؟ وہ خود ٹٹولنے لگي۔۔۔۔ميں نے دوران پرواز وقت کي اس آہٹ کو نہ سنا جو
صديوں کي تاريخ خود ميں سميٹے ہوئے بادلوں کي طرح مرے اردگرد اڑ رہے تھے۔
اور پھر اسے ياد آيا اپنا پہلا سفر۔۔۔۔وہ کہنے کو بائس گھنٹے کا
ہوائي سفر تھا مگر جس نے اسے تيري دنيا سے پہلي دنيا ميں پہنچا ديا تھا۔۔۔۔وہ
آنکھيں پھاڑے حيران نگاہوں سے پچھلے دوسو سال کي سائني بنيادوں پہ کھڑے انساني
معاشرے کو دو ہزار سال پرانے مذہبي بنيادوں کے ڈھانچے پہ کھڑي ناپ رہي تھي اسے نہيں
پتہ تھا کہ وقت درجہ بدرجہ پہلي دنيا ميں پہنچا ہے اور وہ پہلے درجے پہ سمٹي ہوئي
تيسري دنيا سے تاريخ کے ارتقا کو جاننے اور اس کا حصہ بنےبغير گھنٹوں کے ہوائي سفر
کے بعد يہاں نمودار ہوگئي تھي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |