|
|
| بے زميني |
|
وہ تو يہ بھي بھول گئي تھي کہ اس کي ہجرت ہي نے اسے بے زمين کے
ساتھ ساتھ بے زون بھي کرديا تھا، تبھي تو وہ ہوائوں کے ہاتھوں جھولا بن کر پہلي
دنيا ميں اڑاتي ہوئي چلي آئي تھي۔۔۔اور پھر۔۔۔۔وقت کي تبديليوں کو تاريخ کے آئينے
ميں ديکھنے کے بجائےمحض اپني خود اطميناني کي خاطر اپنے پھولوں کو وہ لوريان ساننے
لگي، جن کي دھنوں ميں اپني چھوڑي ہوئي دنيا کے سر تو تھے مگر آنے والے بدلتے وقت کے
ساز نہ تھے، اس کے پھول اپني بے زمين ماں کا نوحہ سر پہ اٹھائے ايسي دو کشتيوں ميں
سوار مسافر نکلے، جو بيچ بھنور ميں پھنسے دو ہزا سال کي چاہ ميں دوسو سال کے کنارے
تک نہ پہنچ پائے اور آج جب وہ بے زون، بے وجود ہو کر آئينے ميں خود کو ڈھونڈنے لگي
تو اس کے اپنے عکس نے اس سے دھيمے سے کہا۔۔۔۔بے زميني نسل کشي ہے، جو تم زمين کو
جغرافئيے سے بانٹ دو۔۔۔مگر۔۔۔تاريخ سے نہيں، اور پھروہ اپنے کھوئے ہوئے وجود سے مل
کر خوشي کے مارے رونے لگي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |