|
|
| بھينٹ |
لوبان جلتے تھے اور ہر طرف دھواں ہي دھواں تھا، آسماں پل پل رنگ بدلتا اور زمين اند
ہي اندر جلتي تھي بانسريوں اور نقاروں کي آوازيں گونجتي تھيں، مائيں رونے لگتيں
تھيں، قرباني کا ديوتا مولک کا بت آگ سے دہکايا جاتا تھا، اس کے پھيلتے ہاتھوں سے
نھنے معصوم روتے بچے آتيشيں گود ميں گرائيں جاتے تھے، لبوں پہ آوازياں اور سسکياں
ابھرنے لگتي تھيں، معبودوں کا غصہ جلتي ہڈيوں کي راکھ سے بھي نہيں بجھتا تھا، آسمان
پھر بھي قہر نازل کرتا تھا، طوفان پھر بھي سب بہا کر لے جاتے تھے، بھوک پھر بھي سب
کچھ کھا جاتي تھي، مگر گونجتي ہوئي رہ جاتي تھي آہيں اور کچھ سسکياں اپنے بھينٹ،
چڑھاوں کي راکھ سميٹي ہوئي۔۔۔۔۔مائيں۔دھرتي ماں کے ساتھ ساتھ روتي ہوئي۔۔۔۔مائيں۔
شاہ دولہے کو چوہا سرخ انگاري آنکھوں سے مجمع کو تکنے لگا، لوگ آنے، دو آنے، چار
آنے، اس نے پہ اچھالنے لگے، ايک مين چلا پھر کھولي ميں بھاگا اور رات کے باسي چاول
اس کے منہ ميں ڈالنے لگا، اور پھر چيخ چيخ کر کہنے لگا يہ بہروپي نہيں اللہ دتا ہے،
اس پہ چڑھاوا سے دل کي مراديں پوري ہوتي ہيں۔
شاہ دولہے کا چوہا بلک بلک کر رونے لگا اور رو رو کر دہائي دينے
لگا پھر زمين پر بيٹھ کر جلتے سورج کي تصوير بنانے لگا، اس نے سورج کي جلتي آنکھوں
سے نيچے لہو سے ٹپکتي زبان بنائي اور پھر ايک شاہ بلوط کے شاخ پر لٹکتي اپني لاش
اور پر آسماں کي طرف ديکھ کر انگليان نچانے لگا ٹوناتھ ديوتا تيري خون اشامي پياس
بھينٹ چڑھي کھو پڑيوں کے ميناروں سے بجھ نہ سکي، ايک کھوپڑي پر اس ميں
۔۔۔ميري بھي تھي، شاہ دولہے کا چوہا اپنے اخروٹ جيسے سرکو تھام کر پھر سے ناچنے لگا
آسماں تو پھر بھي قہر نازل کرتا رہا، طوفان تو پھر بھي آتے رہے اور بھوک بھي سب کو
کھاتي رہي۔۔۔۔ميري کھوپڑي بھي تو بھينٹ ميں ہے ميري کھوپڑي بھي تو بھينٹ ميں ہے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |