|
|
| بھينٹ |
مجمع پھر سے ڈھول بجانے لگا، باجے زور زور سے بجنے لگے، تالياں بھي
پٹنے لگي، ايک من چلا کہيں سے گلاب موتيوں کے ہار اٹھا لايا اور ناچتے شاہ دولہے کے
گلے ميں ڈال کر حق اللہ، حق اللہ کے نعرے لگانے لگا، سارا مجمع ناچنے لگا، ہو
مراديں پوري، ہو منتيں پوري۔۔۔حق اللہ حق اللہ اچانک پھر کوئي من چلا اپني کھولي
ميں بھاگا اور تھالي ميں کچھ گوشت کي بوٹياں لے آيا۔۔۔اور شاہ دولہے سے منت کرنے
لگا۔۔۔ايک بوٹی کھالے، قرباني کي ہے۔
شاہ دولہے کا چوہا منتں ، مراديں پوري ہوجانے پہ شاہ دولہے کے مزار پر چڑھائے بچے
جن کے سر پر لو ہے، کے چونگے رکھ کر ذہني معذور بناديا، ٹوناتھ ديوتا3000ق م ميں
اسپين کي زاتيق قوم کا سب سے بڑا معبود مذہبي تاريخ گواہ ہے، سورج ديوتا ٹوناتھ کو
سب سے زيادہ قربانياں پيش کي گئي، ايک مقام پہ جسے کھوپڑيوں کا اہرام کہتے ہيں،
اسپين کے لوگوں نے ايک لاکھ چھتيس ہزار کھوپڑياں گئي تھيں۔
مولک کا بت 2200 ق م ميں سامي النسل فتيني قوم کو کثرت پستي قائيل تھي، بعل ديوتا
آسمان، آفتاب اور آگ کا ديوتا، کو راضي رکھنے کيلئے دھات کے بننے مولک کے بت ميں
انساني بچوں کي قرباني دي جاتي تھي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |