|
|
| کارٹون |
بابا وہ کارٹون ہو بہو ميري شکل کا ہے، ميرے جيسا ناک نقشہ
مير ہي جيسي ادائيں، وہ اچانک مجھ ميں سے نمودار ہوتا ہے، تمہيں پتہ ہے بابا ميں نے
اسے کب ديکھا تھا؟ ميں مسجد سے نماز پڑھ کر نکل رہا تھا، ميرے ہاتھوں ميں تمہاري ہي
دي ہوئي تسبيح تھي جس کے دانوں کو پڑھتا ہوا ميں گھر آرہا تھا، اچانک يہ کارٹون مجھ
ميں سے نکل کر سامنے آکھڑا ہوا اور پھر مجھے ديکھ کہ زور زور سے تالياں بجانے لگا
مجھے يوں لگا جيسے اس کي دم لمبي ہوئي ہے، اور شکل بندر جيسي اور پھر ايسے
لگا جيسے کہہ رہا ہو کہ يہ ساري نمازيں پڑھ کر بھي تو مجھے بندر جيسا لگتا ہے،
ہاں بابا يہ ٹھيک ہے ميں ضرورتوں اور خواہشوں کا محتاج ہوں، ميں بھي مصلحتوں کا
مارا ہوا انسان ہوں، آسائشوں کا طلبگار ہوں، مجھ ميں نمائش ہے، ظاہر داري ہے،
ميں غيبت بھي کرتا ہوں، رشوت بھي ليتا ہوں اور جو وقت پڑے تو دوسروں کا مال بھي کھا
جاتا ہوں، مگر بابا پھر دن رات عبادتيں بھي تو کرتا ہوں اور ہاں بابا تمھيں پتہ ہے
جب ميں روز صبح قرآن شريف کي تلاوت کرتا ہوں تو يہ کمبخت کارٹون مجھ ميں سے نکل کر
کسي طوطے کي شکل ميں ڈھل جاتا ہے اور پھر مجھ سے ٹرا ٹرا کر کہتا ہے تو کتاب پڑھ کر
بھي طوطے جيسے لگتا ہے کيونکہ تو اسے طوطے ہي کي طرح تو پڑھتا ہے اور پھر وہ اپني
کريہہ آواز سے زور زور سے دہراتا ہے، تجھے معني مطلب سے کيا مطلب؟ تجھے معني مطلب
سے کيا مطلب؟۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |