|
|
| کارٹون |
اور بابا ميں روزے رکھتا ہوں تويہ کارٹون ميرے پيٹ کا کيڑا بن جاتا ہے اور اندر سے
ميرے خالي پيٹ کو ڈھول کي طرح بجاتا ہے اور کہتا ہے جيسا دماغ ويسا پيٹ، بابا تمھيں
کہو اگر ميرے پڑوسي بھوکے سوتے ہيں تو اس ميں ميرا کيا قصور ہے، ميں تو روزت کي
پياس جنت ميں دودھ کي نہروں سے بجھانا چاہتا ہوں، بابا مجھے بتائوں نا آخر يہ
کارٹون مجھ سے کيا چاہتا ہے، تمہيں پتہ ہے بابا کل رات اس نے کيا حرکت کي؟ کل رات
يہ کہيں سے ايک ترازو لے آيا اور وہ بھي ايک پلٹرے کا اور پھر مجھ سے چيخ چيخ کر
کہنے لگا تيري زندگي محض ايک پنساري کي دکان ہے اور پھر مجھے ديکھ کر پيٹ پکڑ پکڑ
کر ہنستا اور قلابازياں لگاتا ہوا اچانک نظروں کے سامنے سے غائب ہوگيا، اور پھر
يکايک ايک بھوت بنکر سامنے آگيا، اور چيخ کر کہنے لگا ترازو کے ايک پلڑے تيري
عبادتيں اور دوسرا پلڑا جيسے بھوت، بابا مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔
کچھ کہو نا بابا ميں کيا کروں؟ کيسے اس کمبخت کارٹون سے نجات پائوں
اور يہ کہہ کر محمد شجاع دھاڑے مار مار کر رونے لگا، کچھ دير بعد بابا نے آہستہ سے
اپنا سر اٹھايا، محمد شجاع نے ديکھا کہ بابا کي سفيد پلکوں پہ آنسو چمک رہے تھے، اس
کا چہرہ جيسے کوئي اندروني کرب سے کانپ رہا تھا، بابا نے روتے ہوئے کہا، بيٹا
تو مجھ سے کيا پوچھ رہا ہے، ميں تو خود بھي ايک اور محمد شجاع کو اچانک لگا جيسے اس
کے باپ کي روتي ہوئي شکل ہو بہو اس کارٹون جيسي ہي تو ہے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |