|
|
| فرشتے کے
آنسو |
چھت کے کونے يہ مکڑي کے جال ميں پھنسي ہوئي ايک مکھي اپني زندگي کي
آخري لڑائي لر رہي تھي اور فرش پر بيٹھا ہوا يک فرشتہ جس کا کل وجود محض ايک قلم
اور دوات تھا، اسے تک رہا تھا منير کے کونے يہ پڑي دوار اور اس ميں ڈوبا ہوا قلم
کمرے کے کسي مکيں کے وہم گمان ميں بھي نہيں تھا کہ ايک فرشتہ سي استعارے کي شکل ميں
وہاں موجود انسانوں کي سرنوشت کو پڑہ رہا ہے اور اپنے رب الجليل کيلئے جبيں پہ ان
کي تقدير لکھ رہا ہے، کچھ دير بعد فرشتے نے اکتا کر چھت سے نظر ہٹائي اور پھر خالي
نظروں سے کمرے کو تکنے لگا۔
کمرے ميں دائيوں کي گھٹي گھٹي بساند پھيلي ہوئي تھي، ديواروں کا چونا بن بن کر
اتررہا تھا دروازے کھڑکيوں کے باريک جال دار پھتے ہوئے پردے ہوا کے جھوکوں سے
اٹکھلياں کر رہے تھے، کمرے کے کونے ميں ايک پراني سنگار ميز رکھي تھي جس ميں بڑا
زنگ آلودہ آئينہ گزرے ہوئے وقت کي چغلي کھا رہا تھا، کمرے کے ايک کونے ميں ايک لکڑي
کي الماري تھي جس کا آدھا ٹوٹا ہوا پٹ الماري کے اندر کا کچھ کچھ حال دکھا رہے تھے،
دوائوں کي نئي پراني بوتليں، سر نجوں کي تھيلياں ، گرم پاني کا مرتبان، چھوٹے بڑے
تولئيے اور سفيد سوتي چادريں، کمرے کے بيچوں بيچ ايک پراني وضع کي مسہري تھي، جس کے
اصل نقش و نگار محض ديمک کي غذا بن کر رہ گئے تھے، مسہري پر ليٹي ہوئي ايک آدھ مري
لڑکي بے بس نگاہوں سے مکڑي کے جال ميں پھنيس مکھي کو آہستہ آہستہ مرتے ہوئے ديکھ
رہي تھي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |