|
|
| انتظار |
سنگل سرخ ہوتے ہي ميرين نے کچھ لمحوں کيلئے گردن گھما کر دائيں طرف ديکھا اور جيسے
اس کي نظريں کچھ دير کيلئے پتھراسي گئي ہيں، کچھ عجيب دل بيٹھا دينے والا منظر
تھا۔۔۔۔۔۔۔۔سڑک کے اس پار ايک خزاں رسيدہ تنہا درخت اور اس سے بھي زيادہ تنہا سر
جھکائے بيٹھا ہوا سفيد کچھڑي بالوں والا بوڑھا جيسے دونوں ہي زندگي کے سارے عذاب
سہہ کے خود کے جانے کا انتظار کر رہے ہو۔۔وقت پوري جواني کي شدت سے ان دونوں کيلئے
بڑھاپا لايا تھا دونوں کا ايک ہي کرب تھا، آنے والي سياہ رات کا
انتظار، ميرن نے ڈوبتے ہوئے دل سے سوچا موت کا انتظار موت سے بدتر ہے۔
سگنل کے سبز ہوتےہي ميرن نے گاڑي آگے بڑھائي اور ہسپتال کے سائين کي طرف گاڑي موڑ
دي، اگلے تين دن کس طرح گزرے اسے پتہ ہي نہ چلے، آج ميڈيکل رپورٹس ہاتھ ميں ليے
ڈاکٹر فنلسين اس کي طرف ٹکٹي باندھے ديکھ رہا تھا، اور وہ سر جھکائے اپني جلد کے
مساموں کو گھور رھي تھي، کچھ دير بعد جب اس نے نظر اٹھا کر ڈاکٹر فنلسين کي طرف
ديکھا تو اس کي آنسوئوں ميں ڈوبي سرخ آنکھيں جيسے اس کے دل کا سارا حال بتا رہي
تھيں، نہ جانے قدرت اس قدر بازوق کيوں ہے کہ آنسوئوں کا مزا بھي نمکين ہے ايسا
نمکين جو زخموں پہ پر کر درد نہيں ديتا مگر شفا بن جاتا ہے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |