|
|
| خدا کا بت |
جب غربت و لاچاري بھوک اور قتل و غارت گري انسانيت کا مقدر بن جائے
اور دنيا معصوم لوگوں کيلئے محض قتل گاہ کا روپ دھارلے تو لہو ٹپکتے ہوئے آنسو خدا
کے عکس ميں بھي اپني ہي جيسي ذات تراشنے لگتے ہيں۔۔۔۔يقين کي آخري منزل جہاں انسان
لاچار ہو کر اپنے پيدا کرنے والے سے اجتجاج کرنے لگتا ہے۔
اور جب آگ کے شعلے ہوا ميں اٹھنے لگے اور سياہ دھوئيں کے مرغولے آرزو ہوئے بدن کے
گرد ناچنے لگےتو نہ جانے کيوں آسمان بلک بلک کر رونے لگا اور پھر وہ منمہ برسا کہ
جلتے ہوئے آزر کي تلاش پاني سے بھيگ گئي، آگ تو بجھ گئي مگر پھر دھواں اٹھنے لگا،
دھواں تو اٹھنا ہي تھا، دھواں۔۔۔۔۔جو جلے ہوئے دل کي راکھ سے اٹھتے تو پھر مٹي کي
جگہ راکھ سہي سے، بت بنتے ہيں اور پھر۔ آرزو جيسے بت تراش زندہ جلا کرتے ہيں۔
ہاں آرزو بت تراش تھا، ايک ايسا بت تراش جو زندگي کے بت بناتا تھا،
اس کے خيالات کي گيلي مٹي جب بت کا روپ ڈھالتي تو زندگي اپني بد نما شکل ديکھ کر
رونے لگتي، آزر کي گوندھي ہوئي مٹي جب خشک ہوتي تو اس کے بنائے ہوئے ماں کے بت کي
جگہ اس کوکھ کا بت بنتا جس ميں ايک بلبلاتا بچہ دنيا کے جہنم ميں آنے سے پہلے
خوفزدہ ہوتا، اور جب آزر باپ کا بت بناتا تو ايسے ہاتھ بن جاتے جو خود سہارا بننے
کے بجائے محض کشکول ہاتھ ميں تھامے ہوئے تھے اور يونہي ہوتا رہتا اور اس کے بنائے
ہوئے بتوں کي شکليں زندگي کي کرب ناک علامتوں ميں ڈھلتي رہتيں، پھر اس نے انسان کا
بت بنانے کيلئے مٹي گوندھي، مگر يہ ہوا کہ جب مٹی خشک ہوئي تو جنگلي بھڑئيے کا بت
بن گيا اور پھر۔۔۔۔اچانک ايک دن اسے يہ عجيب خيال آيا کيوں نہ خدا کا بت بنايا
جائے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |