|
|
| لفظ جو طوائف بن گئے |
تو پھر ايک دن تھک ہار کر وہ کتابوں ميں کھو گئي، کتابيں جو اس کے اندر کي سچائي کو
باہر کي بدنمائي سے ملا کر اسے خوبصورت بنادے، کتابيں جو بد نما لفظوں کے
آئينے سے نکال کر اسے خوبصورت معنوں کي دنيا ميں پہنچا دے، وہ خود کو ايک بد نما
لفظ سمجھ کر اپنے معني کتابوں ميں ڈھونڈنے لگي۔۔۔۔ايک ڈري سہمي ہوئي اميد کے ساتھ
وہ پڑھتي رہي، ادب کي دنيا ميں ادب کے ساتھ کھوتي چلي گئي۔
مگر لفظ بھيانک تھے، ٹھيک اتنے ہي بھيانک اس کے آئينے کي عورت تھي، وہ اپنے چيچک
زدہ چہرے اور بجھتے ديے جيسي آنکھوں سے اسے ڈراتے تھے، وہ کسي کي غزالي
آنکھوں اور سر وقامتي ميں رچے ہوئے تھے، وہ کسي کے نازک لبوں اور لچکتي کمر
کي تعريفوں ميں بست ہوئے تھے، وہ کسي کے دہکتے گالوں اور سنہري زلفوں
کے تاروں ميں الجھے ہوئے تھے، وہ حسن و عشق کي باردگاہ ميں کسي طوائف کي طرح ناچ
رہے تھے، تو اس دن اس نے ساري کتابيں آگ کي نظر کرديں اور اس کي راکھ اپنے چہرے پر
مل کر ان اديبوں کي تلاش ميں نکلي جن کے لفظ اس کے آئينے جيسي عورت کي طرح بد نما
تھے، مگر جب اس نے دروازہ کھٹکھٹايا تو اس کي آنکھيں حيرانگي سے پھٹي کي پھٹی
رہ گئيں، وہ تخليق کار تو اس سے بھي زيادہ بد صورت تھا، اس کي موٹي ناک اور لٹکتے
ہوئے ہونٹ تھے، اس کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے، کمر جھکي ہوئي اور آنکھيں بجھي
ہوئي تھي، اس نے روتے ہوئے پوچھا۔۔۔کيوں؟ ايک لفظ بھي ان کتابوں ميں ميرے تمہارے
بارے ميں نہيں۔۔۔۔۔آخر کيوں؟
۔۔۔بدصورت تخيلق کار نے اسے مسکرا کر ديکھا اور کہا۔تم نے کتابيں تو پڑھ ليں مگر
شايد ٹائٹل نہيں پڑھا۔۔لفظ۔۔۔جو طوائف بن گئے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |