|
|
| نہيں |
|
صبح سويرے مياں جي اٹھ کر دوکان چلے گئے، جاتے جاتے پھر پيشاني پر
بوسہ ديا اور آپا سے وعدہ ليا کہ اس بار ڈاکڑ سےبھي علاج کروانگي۔۔۔۔۔پر فائدہ تو
کچھ نہ ہوا۔۔۔۔ہاں اس بات نے آپا کي نيند ہي آڑا دي کہ اللہ کي رحمت کا نزول دراصل
آپا ہي کي صحت ميں کسي کمي کي وجہ سے نہيں ہورہا ہے۔۔۔۔اب تو يہ حال کہ سوتے جاگتے
قرآن شريف کي تلاور کتيں اور رات ديک تک نمازيں۔۔۔۔پہلے مياں پر پڑھ کر پھونکتي
تھيں اب خود پہ۔۔۔۔۔ادھر مياں جي کچھ دنوں تک دکان پر کھوئے کھوئے سے رہے، آخر ايک
دن آپاکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر سامنے ذانوں ہو کر بيٹھ گئے، بڑي ہي ملاممت سے
آپا سے کہا۔۔۔دين و دنيا کے سارے ہي سبق آپ نے مجھے پڑھائے ہيں، آپ جو پہلے دل کا
پيار تھيں، اب آنکھ کا احترام بھي ہيں، خود شريعت ميں بھي ہے اور آپ تو ايمان کي
اعلي منزلوں سے واقف ہيں۔۔۔مجھے اجازت دے ديجئے، کہ محض اولاد کي خاطر دوسري شادي
کرلوں ورنہ اس بڑھتے ہوئے کاروبار کا تو کوئي بھي وارث نہيں۔۔۔۔۔آپا نے يہ سنا تو
روح کي گہرائيوں سے ايسي چيخيں کہ گھر کے درو ديوار تک کانپ اٹھے، ايمان کي آخري
منزل سے پہلي منزل تک کا سارا سفر ايک ہي جواب ميں طے کر ديا۔۔۔۔۔۔نہيں |
|
اگلا صفحہ |
(3) |
پچھلا صحفہ |
|
 |