|
|
| پردے جو
نفرتوں کے تھے |
ہارمونيم کے پردوں کے پيچھے چھپا ہوا ميٹھا سر جنم جنم سے ان ديکھي
مشتاق انگليوں کا منتظر تھا۔۔۔۔انگلياں جو بولتي ہو۔۔انگلياں جو ديکھتي ہو۔۔انگلياں
جو ہنستي ہو۔۔انگليان جو روتي ہو۔۔۔انگليان جو ڈھولک کي تھاپ سارنگي کے سر اور
بانسري کي لے کے ساتھ ہارمونيم کے اس ميٹھے سر کو کچھ اس طرح سے ملادے کہ ايک ايسا
سنگيت جنم لے جس کي ہر تان ايک ديپک ہو،
مگر ۔۔۔۔بادل گزرتے رہے، سورج ڈوبتا ابھرتا رہا اور موسم بدلتے رہے۔۔۔۔سارنگي
ہارمونيم کے ميٹھے سر کيلئے ترستي رہي، بانسري کي لے ڈھولک کي تھاپ کے انتظار ميں
روتي رہي۔۔۔۔ہارمونيم کا سچا سر کہيں کھو گيا تھا، سنگيت بنا جنم ليا مر رہا تھا،
بالآخر تھک ہار کے ايک رات کے پچھلے پہر کچھ انگلياں ہار ميونيم کے پردوں پر سرائي،
ہارمونيم کے سوئے ہوئے ميٹھے سر نے نيند کي آغوش ميں کروٹ لي اور پھر دھيمے سے
ڈھولک کي تھاپ کے کان ميں کچھ ايسي بات کہہ ڈالي کہ ڈھولک کي تھاپ اک دم شرما سي
گئي اور پھر بانسري کي لے کے ساتھ کسي ناچتي ناگن کي طرح بل کھا کر اٹھي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |