|
|
| شکوہ |
کيوں ايسي بھي کيا ضرورت تھي؟۔۔۔تم نے ہميں بے جان رنگوں سے ايک
ہستي کي شکل دے دي۔۔۔۔تمہيں پتہ ہے نہ۔۔۔يہ جو تمہارا برش رنگوں کي بہاريں لايا
ہے۔۔۔۔وہ تخليق سے پہلے بہت سے جنموں کي آزمائشوں سے بھي گزرا ہے۔۔۔۔وہ ہر ايک رنگ
ميں جل کر تم جيسے تخليق کار کے ہاتھوں ميں ابھرا ہے، تمہيں پتہ ہے نہ ان ہر ايک
آڑي ترچھي ليکروں پيچھے کھوئي کوئي رتوں کا الم ناک فسانے بھي ہيں، تبھي تو ان اجاڑ
شاجوں ميں کہيں پھول کھلے ہيں اور کہيں قدموں کے نشاں۔۔۔يہ دہکتا ہوا سورج، يہ
شرماتا ہوا چاند، يہ شريري تارے، يہ افق کي تمتمائي ہوئي سرخي، يہ شام کا ملگجا
اندھيرا۔۔۔۔يہ گزرتے ہوئے وقت کي علامتيں۔۔۔يہ سارے ہي رنگ تمہارے خيالوں ميں بس کر
ہم گمنام لکيروں کو زندگي دے گئے۔۔۔مگر کيوں ۔۔۔کيا محض بازار ميں بيچنے کيلئے؟
اچانک آرٹ گيلري ميں چپ چاپ کھڑا ہا بوڑھا آرٹسٹ اپني بنائي ہوئي تصوير کو تکنے
ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا، دھند لائي ہوئي تصوير پھر سے رنگوں کا روپ پانے لگي،
پھر سے اس کے نقوش نماياں ہونے لگے، اسے لگا جيسے اس کي بنائي ہوئي تصوير کسي روتے
ہوئے بچے کا آنسوئوں سے دھلا ہوا چہرہ بن گئي ہو۔
اس رات وہ سفيد بالوں والا بوڑھا آرٹسٹ اپني جائے نماز پر دير تک روتا رہا اور کسي
بلبلاتے ہوئے بچے کي طرح اپنے خداوند تعالي سے گڑ گڑا کر فرياد کرتا رہا۔۔۔۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |