|
|
| سہاگ رات |
جو ايک دن ميں اس کي گردن کا ہار اور سر کا تاج ضرور بن جائيگا، ان کا ہر انداز
جيسے گواہي دے رہا تھا، کہ وہ زندگي کے ہر تلخ و شيريں اتار چڑھائو سے کسي دانشور
کي طرح واقف ہيں وہ نہ صرف سوسائٹي کے چاروں طرف پھيلے ہوئے تابے بانوں ميں سياسي
سماجي، معاشي اور مذہبي غير ہمواريوں پہ تنقيدي نظر رکھتے ہيں بلکہ اکيسويں صدي کے
سائنسي دور کي تبديليوں پر ايک تعمري انداز فکر بھي رکھتے ہيں، انہيں آنے والے
دورسے وہ روشن اميديں بھي ہيں، جو مذہب کي جامد فکر ميں سائنسي طرز فکر کي روشني سے
انساني نفسيات کي بہتر تبديلي کا سبب بنے گي۔
وہ مذہب کے سماجي اور روحاني فرق کي گہرائيوں سے واقف ہيں وہ آنے
والے جديد دور کي تبديليوں کو نظريتا کي اساس سے ہم آہنگ تو کريں مگر شخصيتوں کي
اناکا مسئلہ نہيں بنيں دينگے وہ ايک مذہبي سماجي اور روحاني فرق کي گہرائيوں سے
واقف ہيں وہ آنے والے جديد دور کي تبديليوں کو نظريات کي اساس سے ہم آہنگ تو کريں
مگر شخصيتوں کي انا کا مسئلہ نہيں بننے دينگے، وہ ايک مذہبي گھرانے سے ہيں اور آج
کے دور کے انجنيئر بھي، يہ ہي تو وجہ ہے وہ روحانيت کي اعلي منزلوں کو نفسياتي
سائينس سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بہتر انساني سماج کي تعمير کرنا چاہنگے، ان کا جماليت
ذوق تو ان کي ہر ايک ادا ميں نماياں ہو رہا تھا، ان کے انداز ان کے شاعرانہ شغف کي
گواہي دے رہے تھے وہ اپنے دل کے کينوس پہ ميرے عشق کي تصوير بنائيں گے، کتني ہي دير
تک وہ اپنے کمرے ميں سن پيروں کھڑي، پردے کي آڑ سے انہيں اپني قسمت پہ رشک کھاتے
ہوئے تکتي رہي تھي اور پھر بالآخر اس کے اپنے سپنوں کے شہزادے کے ساتھ شادي ہوگئ
اور آج اس کي سہاگ رات تھي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |