|
|
| يہ کيسي بے
وفائي ہے |
عفت نے بيزرگي سو سوچا اونہہ۔۔۔اچانک ہي اسے اپنے ہونے والئ مياں کا خيال
آگيا۔۔۔۔ميرے منان ايسے تھوڑي ہونگے جيسے ابا تھے، وہ اور مردوں کي طرح آنکھيں
مٹکانے والے نہيں ہونگے، وہ تو صرف ميرے ہونگے، صرف ميرے مجھ سے تھوڑي بے وفائي
کريں گے، وہ تو مجھ سے سچا پيار کريں گے، يہ خيال آتے ہي عفت کو لگا جيسے اس کے
سارے بند ميں بجلياں سي رينگنے لگي ہوں، اس نے جلدي سے دوپٹے کي پلوں سے پيشاني اور
گردن کا پسينہ صاف کيا اور سامنے چولہے پہ چڑھي ديگچي کے ڈھکن کو سرکا بھاپ
کو نکلتے ديکھنے لگي۔
اور پھر يہي ہوا شادي کي رات منان نے جو اسے ديکھا تو عفت کو ايسا لگا کہ جيسے کے
دبکتے حسن کو ديکھ ان کو سٹي ہم گم ہوگئي ہو، ايسے کانپتے ہاتھوں سے اسے ہاتھ لگايا
جيسے وہ موم کي گڑيا ہو، ہاتھ لگے وہ پگھل جائے، اماں جي کے پيدا کردہ سارے انديشے
بس ہوائي ثابت ہوئے، منان تو سر سے پائوں تک سچے من سے اسے چاہتے تھے، کتنا بڑا تو
کاروبار تھا دن رات کا دفتري عورتوں ميں اٹھنا بيٹھنا، مگر مجال ہے جو خانداني رکھ
رکھائو ميں کوئي فرق آنے ديں پوري متانت سے لوگوں سے ملتے، کبھي ضرورت سے زيادہ ميل
جول نہ بڑھاتے ہر چيز کا وقت پہ دھيان رکھتے خود عفت کا تو چھوٹی چھوٹي باتوں کا
خيال کرتے، کپڑے لتے زيور بس زبان ہلنے کي دير ہوتي اور انبار لگ جاتا۔
جو دھن برس رہا تھا، اس پر روپ بن کر چمکتا، بس دلہن ہي بني رہتي
شادي کو دوسال ہوگئے مگر اولاد اب تک نہ ہوئي تھي پر مجال ہے جو منان شکايت کا کوئي
الفاظ بھي زبان پہ لائے ہوں، پورے خانداني وقار سے رہتے نہ تو کبھي پريشاني کا
اظہار کرتے اور نہ ہي کبھي اپنے روز مرہ کے معمولات ميں فرق آنے ديتے، وہ تو اس کو
اب بھي ايسے ہي چھوتے تھے کہ جيسے وہ پہلے دن کي دلہن ہو، ہاتھ لگے اور ميلي
ہوجائے، ان کے دن رات ويسے ہي تھے، جو شادي سے پہلے تھے، صبح ہوتي اور دفتر چلے
جاتے شام پانچ بجتے ہي گھڑي کي چڑيا جو پانچ بار کو کو کرتي تھي، اس وقت منان کي
موٹر کي ہارن کي آواز پي پي کرتي گھر ميں گھستي، شام کي چائے وہ بلا ناغہ عفت کے
ساتھ پيتے پھر ان کے بچپن کے دوست شرافت بھائي آجاتے اور دونوں ميں کيرم کي بازي لگ
جاتي۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |