افاديت اس کي فطري ضرورت سب محسوس کرتے ہيں ليکن اظہار نہيں کرتے۔
مصنف نے يکايک ايک فني چابکدستي سے کہاني کو ايک ايسا موڑ ديا ہے کہ قاري چونک
اٹھتا ہے، مرد اور عورت کے مابين جو رشتہ ہے آگہي کي جو شکل ہے پورے دعوے کے ساتھ
مصنف نے پيش کي ہے وہ بے مثال ہے، کہ اچانک زنانہ خانے ميں مرد کا داخلہ ہوتا ہے
اور يہ داخلہ جمود کو توڑتا ہوا ماحول کے سکوت ميں لہريں پيدا کرتا ہے ہوا، ذات پر
جبر کو ختم کرتا ہوا، مردہ خواہشوں کو دوبارہ زندگي عطا کرتا ہے، دراصل مصنف اپني
کہانيوں ميں فليش بيک کے ساتھ فارورڈ جيسي تکنيک بھي استعمال کرتے ہيں، جن سے ان کي
کہانيوں کے لاٹ ميں جامعيت پيدا ہوتي ہے، ذوقي کي کہانياں عمومي طار پر
Transperation ہوتي ہيں، ان کے کرداروں کے ذريعے کئي نفسياتي گرہوں
کي عقد کشائي ہوتي ہے ، مثال ديکھے۔
آدھے گھنٹے بعد اچانک ثريا کو خيال آيا کيا پتہ مردو اسي تنگ کوٹھري ميں چھپ کر
بيٹھ گيا ہو۔
گويا مرد کي کمي کا احساس اور مرد کي موجودگي، اہميت و افاديت و دل کے کسي کال
کوٹھري ميں دبا ہوا ہے، مرد عورت کے اندر آج بھي زندہ ہے ، ليکن ايک انا ہے جو
ہميشہ تمام جذبوں پر بھاري پڑتي ہے اراسي انا کي آڑ لے کر زنانہ خانہ پھر سے مرد کے
وجود کا منکر ہونےکي لا حاصل کوشش کرتا ہے، اور زنانہ خانہ پھر سے آباد ہو جاتا ہے،
ذوقي کو باطن سے آشکار کرنے ميں کامياب ہيں، ذوقي نے مشيني زندگي، صنعتي تہذيب
کاروباري مزاج، دبئي ہوئي شخصيت کرب تنہائي، جنسي عوامل اور ناجائز رشتوں کو اپنے
افسانوں کا موضوع بنايا ہے، اقسم کے موضوعات پر لکھنے کي دو وجہيں ہوسکتي ہيں، ايک
تو يہ کہ ايسے موضوعات عام طور پر معاشرے کي آنکھوں سے اوجھل رہتے ہيں اور اس کي
نفسياتي تحليل کے طور پر ہمارے افسانہ نگاروں نے اپنايا ہے، ظاہر ہے کہ اس قسم کے
افسانے کو اردو ميں بھي وہ مقام حاصل نہيں ہوا ہے اس کي وجہ يہ معلوم ہوتي ہے کہ
اردو کا عام قاري ان موضوعات کي ذہني طور پر جذب کرنے کا اہل نہیں ہوا ہے، ليکن جس
کثرت سے ايسے افسانے لکھے جارہے ہيں انہيں ديکھ کر يہي کہا جاسکتا ہے، کہ ايسے
افسانے ہي آنے والے وقتوں کي اہم آواز ہوں گے، کاتيائن بہنيں، مرد بارش ميں ايک
لڑکي سے بات چيت، زنانہ خانہ، فزکس، کيمسٹري، الجبر، ، بازار کي ايک رات غيرہ
افسانوں ميں ذوقي نے حقيقت کو فناسي ميں بدلنے کي بھر پور کوشش کي ہے، اس قسم کے
افسانوں سے ذوقي نے اردو ميں نئي حقيقت پسندي کے رجحان کو فروغ ديا ہے، ان کے
افسانے حقيقي کرداروں اور واقعات کے ساتھ سامنے آتے ہيں، اس لئے تجربے اور مشاہدے
کي ايک سيال فضا قائم ہوجاتي ہے، ذوقي بولڈ افسانوں سے الگ بھي افسانوں کي ايک نئي
دنيا بساتے ہيں، نور علي شاہ کو اداس ہونے کيلئے کچھ چاہئيے، باپ بيٹا، دادا اور
پوتا کا جو انارکلي عمر54 سا؛ ايک مٹھي خاک، نعمتہ بيکري وغيرہ دان کي ايسي ہي
کہانياں ہيں، ان افسانوں ميں انہوں نے زندگي کے تضادات کو پست و بلند کے امتياز سے
اجاگر کرنے کي کوشش کي ہے، ذوقي کے ايسے افسانے رشتوں کي لہر سے پيدا ہوتے ہيں اور
زندگي کي حقيقتوں سے ٹکرا کر ايک لمبي گونج پيدا کرتے ہي۔
ذوقي کے فن کا سب سے نماياں پہول افسانوں کا Compression
ہے، ذوقي بکھري ہوئي زندگي کي پيچ دار حقيقتوں اور انساني وجود کي تہہ دار سچائيوں
کو اپنے تخليقي انہاک سے ايک ايسي شکل ميں ڈھال ديتے ہيں، جو مختصر اور مجمل ہونے
کے ساتھ ساتھ جامع، خود کفيل اور معني خيز ہوتي ہيں، ان کے افسانے ذہن کے دريچے
کھولتي ہے اور احساسات کے منطقوں تک رہنمائي کرتي ہے، ذوقي کے افسانوں ميں
عمل اور رد عمل کي کيفيت داخلي اور خارجي دونوں سطحوں پر ديکھنے کو ملتي ہے ، ان کے
يہاں مسلسل وقوع پزيري کا احساس نماياں ہے، ان کے تخليق ذہن سے اٹھنے والي لہروں کے
ساتھ قاري بھي ايک لہر بن کر بہتا چلا جاتا ہے اور ان کے پيش کردو واقعات روز مرہ
کے مشاہدار اور بيانيہ کي قوت، تصوير بن کر آنکھوں کے سامنے پھر جاتي ہے، اس لحاظ
سے ديکھا جائے تو ذوقي نے افسانہ نگاري کے ذيل ميں ايک اہم کارنامہ انجام ديا ہے
اور کہاني کے اکہرے پن ميں تہہ داري پيدا کي ہے اور موضوعات ہي نہيں بلکہ تکنيک کے
Range ميں بھي اضافہ کيا ہے۔ |