Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | آپ کے مضامين | مشرف عالم ذوقي
پاکستان : اب ادب آزاد ہے
جرمن مصنف فرنيز کفکا کے مشہور ناول مقدمہ کا ہيرو، جوسف کے، ايک صبح نيند سے بيدار ہوتا ہے اور خود کو حراست ميں پاتا ہے، ايک زمانہ تھا جب پاکستان کيلئے ايسے حالات کوئي نئے نہيں تھے، خاص طور پر ضياء الحق کے دوران حکومت اديبوں اور صحافيوں کي خير خبر لئے جانے کا سلسلہ اتنا بھيانک تھا کہ نئے تخليق کار ادب يا صحافت کے ميدان ميں بھي آتے ہوئے گھبراتے تھے،  نعيم آروي کے دو برس قبل شائع ہوئي کتاب ہجرتوں کي مسافت ميں ايک صحافي کا کم و بيش وہي چہرہ دکھائي ديتا ہے، جو سف کے، کے ساتھ ہونے والے پوليسيا برتائو ميں نظر آتا ہے يا پھر اليکزنڈرسولينسٹين کي متنازعہ في کتاب، گلاب آرکپلاگو، ميں ايسے حادثوں کي تفصيل آپ آساني سے تلاش کرسکتے ہيں، تہيمنہ دراني کي آپ بيتي مائي لارڈ ہو يا پھر ناول، کفر۔۔۔۔پاکستاني سياست کا بيبتناک چہرہ باآساني ديکھ سکتے ہيں، ابھي حال ميں ناول نگار اشرف شاد کے تين ناول سامنے آئے، بے وطن، وزير اعظم اور صدر اعلي،  ان تينوں ناولوں کے پس منظر ميں پاکستان کي سياسي اور سماجي تاريخ رہي ہے، ظلم اور زيادتي کي ايسي مثاليں اور لرزہ طاري کرنے والے واقعات آپ کو  اس ناول ميں پڑھنے کو مليں گے کہ چنگيز اور ہٹلر کا ظلم بھي آپ کو کم لگنے لگا اور اس بات پر مشکل سے يقين آئے گا، کہ يہ سب ہندوستان کے اس پڑوسي ملک ميں ہوا، جو کبھي ہندوستان کا اک اٹوٹ حصہ ہوا کرتا تھا، ابھي حال ميں شائع ہونے والے عاصم بٹ کے ناول دائرے ميں بھي پاکستاني سياست کے اسي سياہ چہرے کي خبر لي گئي ہے، يہاں ہر تخص پاکستاني سياست کا مہرہ ہے اور شطرنج کي بساط پر مہروں کے چلنے اور ٹپنے کا بھيانک کھيل جاري ہے، ايک زمانہ تھا جب مزدوروں کا شاعر حبيب جالب حکومت کے جابرانہ روئيے کے خلاف منہ کھولتا تھا اور جيل کي چار ديواري کا پھاٹک اس کيلئے کھول ديا جاتا تھا، مشکل ترين حالات کا سامنا، قلم پر پابندي، بولنے، لکھنے، صحافت سے ادب تک ، اتني پابندياں تھيں، کہ پاکستان کے سياسي ماحول ميں کھل کر اپني باتيں کہنا ممکن نہيں تھا، ذرا ليکونڈ سولينسٹن کي گلاب آرکپلا کا ہ منظر ياد کيجئے، ايک شخص اپني بيوي اور بچوں کے ساتھ سير سپاٹے کو نکلا ہے، اچانک ايک دوست سامنے سے آکر کہتا ہے، ہيلو دوست، مجھے پہچانا، وہ شخص تعجب کا اظہار کرتا ہے، اجنبي شخص کہتا ہے، وہ بس دو منٹ اس سے بات کرنا چاہتا ہے، دو منٹ اس سے بات کرنا چاہتا ہے، دو منٹ اليکزنڈسونيسٹن اس واقعہ کے بارے ميں بتاتا ہے کہ آپ يہ مت سمجھيں کہ يہ ملاقات دو منٹ ميں ختم ہو جائے گي، کيونکہ اس بے قصور شخص کو کسي انجان يا بے بنياد الزام کے نتيجے ميں سائبريا بھيج ديا گيا ہے ، يہ دو منٹ بيس برس بھي ہوسکتے ہيں يا اس سے بھي زيادہ۔
پاکستاني مصنف نعيم آروي کي کتاب ميں ٹھيک ايسے ہي واقعات صدر جنرل ضياء الحق کے دوران حکومت کو لے کر بيان کئے گئے ہيں، اخبار کا دفتر۔۔۔۔فوج کا آدمي آکر کہتا ہے، دو منٹ اور يہ دو منٹ کسي صحافي کيلئے موت کا سبب بھي بن سکتے ہيں، قصور يہ کہ اس نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دينے والے ضياء الحق کي شان ميں گستاخي کي جرات کي ہے، ابھي حال ميں شائع ہوئي، پاکستان کي مشہور خاتون افسانہ نگار زاہدہ حنا کي کتاب عورت زندگي کا زنداں ميں آپ ايسے دلوز واقعات کي تفصيل ديکھ سکتے ہيں جہاں آپ متحير ہوکر انگلياں چبانے کو مجبور ہوجائيں گے، پاکستان کے قيام کے بعد اب تک کي تاريخ ميں جيسے عورت يا اديب ہونا کسي بڑے جرم يا سنگين گناہ سے کم نہيں مانا جاتا تھا، 1970 ميں پاکستان کے شمالي علاقے کي عوام کي مخالفت ميں جو فوجي کاروائي عمل ميں لائي گئي اس ميں بنگالي اديبوں، صحافيوم کا بے دردي سے قتل عام بھي تھا جس نے پاکستان ميں نفرت کي ايک نہ بھولنے والي سياہ تاريخ لکھ ڈالي، آج بھي اس زمانہ کو ياد کرنے والے لوگ زندہ ہيں اور اس وقت کے واقعات کو ياد کرکے لرز اٹھتے ہيں، پاکستان کے پہلے وزير اعظم لياقت علي خان سے لے کر بے نظير بھٹو اور نواز شريف تک ادب اور عورت دونوں ہي پاکستان ميں کٹر پن کا شکار رہے ہيں،  سچ تو يہ ہے کہ جماعت اسلامي کے يہ علما عورت کي آزادي پسند کرسکتے تھے اور نہ ادب يا صحافت کو عوام کيلئے تسليم کرسکتے تھے، يہاں تک کہ غير ممالک ميں تعليم حاصل کرنے والے اور مخصوص انگلش اسٹائل ميں، بش، بلئير کو خوش کرنے والے پاکستاني ليڈر بھي عورت اور ادب کي سطح پر کڑ پنتھي پاکستاني ملائوں کي ہي بات دہراتے نظر آتے تھے، پاکستان کي فوجي حکومت اور اسلامي نظريہ کے درميان اديب اور صحافي کي زندگي عام طور پر کسي دبو، بزدل يا قيدي کي ہوتي تھي، جو اپنے خيالوں کي خود مختاري کے ساتھ زندگي نہيں گزارسکتا تھا، اس تانا شاہي نظام ميں وہ کمزور الفاظ يا علامت کا سہارا لينے کيلئے مجبور تھا، ديکھا جائے تو پاکستان جيسے اسلامي قلعے ميں اچھے برے اور نامور کہاني کاروں کا دم گھٹ گيا تھا، انتظار حسين، طلسم ہوشربا اور پنچ تنت کو اپني کہانيوں کي بنياد بناتے رہے تھے، جو پاکستان کي فوجي حکومت کے مطابق ہو اور اس ميں بغاوت يا انقلاب کے بيج نہ پنپتے ہوں۔
قيام پاکستان کے بعد اسے اب تک پاکستان ميں شايد پہلي دفعہ جنرل پرويز مشرف کي حکومت کے دوران يہ تبديلي آئي کہ ادب اور صحافت کو گہرائي و سجيدگي سے قبول کرليا گيا، جنرل مشرف کي تانا شاہي پرچاہے کچھ بھي الزام کيوں نہ لگايا جائے ليکن يہ حقيقت ہے کہ انہي کي حکومت کے دوران پندرہ ہزار مدرسہ بند کئے جاتے ہيں اور ادب کو آزاد کرديا جاتا ہے، نتيجتا برسوں بعد جو ٹھنڈي ہو ادب ميں بہتي نظر آرہي ہے اس سے پہلے ايسا سوچا جانا بھي مشکل تھا، رسائل کے ادرائيے ان دنوں چونکانے والے ہوتے ہيں، ادب ميں باغيانہ سر کي واپسي ہو رہي ہے، نئي نسل، جوش اور امنگ کے ساتھ ساتھ حقيقت کا چہرہ دکھانے کي کوشش کرہي ہے، کہانياں اور سياسي ناولوں کي باڑھ آگئي ہے، اب يہاں علامتوں کا سہارا نہيں ليا جا رہا ہے، حقيقت ميں اديب کو علامتوں کا سہارا لينے پر مجبور کرنے والي فوجي حکومت نے پاکستان کو کڑ نظرئيے اور آتنک کي علامت بنا کر چھوڑا تھا، ديکھا جائے تو اب کہرا صاف ہورہا ہے اور قيام پاکستان کے بعد پہلي بار لکھنے والوں کو سچ کہنے کا حوصلہ ہوا ہے، شايد اس سے پاکستاني جمہوريت کو ايک نئي سمت مل سکے۔
اگلا صفحہ (1) پچھلا صحفہ
Please use the forum for any questions!
This page has 2 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu