|
|
| ڈراکيوالا |
وہاں ايک بھائي ہے، جب تک ميں باہر نہيں نکلو گي، تير کي طرح زمين ميں گڑا اپنے
ناکارہ ہونے کے احساس سے مرتا رہے گا، سہمي سہمي سي ايک بہن ہوگي اور سہمے سہمے سے
سوال ہوں گے۔۔۔۔نہيں ان سوالوں کي پروہ مت کرنا۔۔۔۔ميں کرتي تو اس وقت نائٹي پہن کر
تمہارے سامنے نہيں ہوتي۔۔۔۔انہيں بس يہي پڑي تھي کہ ميري شادي ہوجائے۔۔پھر تم ملے،
تم جھے بستر پر آزما کر، ميرے بدن کو منظوري دينے والے تھے، سچ ايک بات
بولنا، تم مجھ سے شادي کرنا چاہتے تھے، يا ميرے بدن سے۔۔۔۔۔
وقت لڑکے نے پھر مضبوط لفظوں کا سہارا ليا۔۔۔۔وقت بدل رہا ہے۔
وقت ۔۔۔۔وہ زور سے ہنسي۔۔۔بدل رہا ہے، بدل گيا ہے، ليکن تم کيوں کانپ رہے ہو، ديدار
کرو ميرا ديکھو مجھے۔
کمرے ميں نور جا جھما کا ہوا،
ايک لمحے کو اس ہاتھ پيچھے کي طرف گئے۔۔۔نائيٹي کے ہک کھلے اور نائيٹي ہوا ميں اڑتي
ہوئي بستر پر پڑي تھي۔۔۔۔
لڑکا بستر سے اٹھ کھرا ہوا، وہ کانپ رہا تھا، اس کي پلکوں پر جيسے انگارے رکھ دئيے
گئے تھے، نہيں انگارے نہيں۔۔۔برف کي پوري سل۔۔وہ جيسے پلک جھپکانا بھول گيا تھا،
ہوش اڑ چکے تھے، آنکھيں ساکت و جامد تھيں۔۔۔ايک دھند تھي۔۔۔۔جو روشندان چيرتي ہوئي
کمرے ميں پھيل رہي تھي۔
ديکھو مجھے۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ چلتي ہوئي آئينہ کے قريب آگئي۔۔۔ديکھو مجھے ميں نے کہا تھا نا تم سے
زيادہ بھوکي ہوں۔۔۔۔پچيس لوگ تم سے پہلے بھي مجيے ديکھے بغير لوڑ چکےہيں۔۔۔سمجھ
سکتے ہو۔۔۔پچيس بار تو يونہي مري ہوگي۔۔۔شادي کے ہر احساس کے ساتھ بدن ميں انگارے
پلتے تھے۔۔۔جانتے ہونا فرائيڈ نے کہا تھا، عورت مرد سے زيادہ اپنےبدن ميں انگار
رکھتي ہے۔۔۔۔اور ميں تو بڑي ہوئي تب سے انگار جمع کرتي رہي تھي۔۔۔فلم سے سيريل، ٹي
وي دوست سہليوں کي شادي۔۔۔۔مجھ سے بے حد کم عمر لڑکيوں کے ہاتھ پيلنے ہونے کے قصے
۔۔۔۔ہر بار انگاروں کي تعداد بڑھ جاتي، ميں ہر بار انگارے چھپاليتي۔۔۔وہ زور سے
چيخي۔۔۔رنڈي نہيں ہوں ميں۔۔ بازار ميں نہيں بيٹھتي ہوں، تم نے سودا نہيں کيا ہے
ميرا، ميري ميں نے بھي تسلي کي تھي کہ اگر تم ميرے شوہر ہوئےتو تمہيں پورا پورا
مجھے ديکھنا ہي ہے، اور پھر ۔۔۔۔۔ميرے گھر والے يوں بھي تھک گئے ہيں۔
اس نے حہ مغرور انداز ميں آئينہ ميں اپني ايک جھلک ديکھي، جيسے قلو پطرہ نے اپني
ايک جھلک ديکھي ہو اور فاتحانہ انداز ميں سر اٹھا کر اپنے ملزموں سے کہا ہو۔۔۔يہ
آئينہ لے جائو، اس کا عکس بھي مجھ سے کم تر ہے، کوئي ايسا آئينہ لائو جو ميري طرح
دکھ سکے۔
وہ مغرور ادائوں کے ساتھ مڑي، بستر سے نائيٹي کو اٹھايا اور دوسرے ہي لمحے نائٹي کے
بدن ميں داخل ہو گئي۔۔۔۔لڑکا ابھي بھي تھر تھر کانپ رہا تھا۔۔۔۔
يہ کوٹھا نہيں تھا اور اتنا طے ہے کہ تم آج تک کسي کوٹھے پر نہيں گئے۔۔۔ديکھو۔۔۔تم
کانپ رہےہو، نہيں ادھر آئو، اس نے بے جھجھک اسکا ہاتھ پکرا، مرر کے سامنے لے آئي،
يوں نو، تم کيسے لگ رہے ہو، جوناتھن سوئفٹ کے گھوڑے۔۔۔ليکن نہيں، تم گھوڑے بھي نہيں
ہو۔۔۔تم ايک ڈر پوک مرد ہو جو ايک خوبصورت بدن کو آنکھ اٹھا کر دکھ بھي نہيں
سکتا۔۔۔۔
لڑکا بے حس و حرکت تھا، ساکت و جامد لاش کي طرح سرد۔
صوفيہ مشتاق احمد کي آنکھوں ميں برسوں کي ذلت کي چنگاري بن کر دوڑ گئي۔۔بھوک نفرت،
پر غالب آگئي، ديکھتے کيا ہو، ميں پوچھتي ہوں، اب بھي تم اس کمرے ميں کھڑے کيسے ہو،
تم تو شرط کا بوجھ اٹھانےکے قابل بھي نہيں ہو، نامرد کيڑے، نہيں وہيں کھڑے رہو اور
جانے سے پہلے ميري ايک بات اور سن لو، ميں نے کہا تھا نا تم سے زيادہ بھوکي ہوں ميں
مگر رنڈي نہيں تھي، ارے تمہاري جگہ ميں ہوتي، ميں نے شرط رکھي ہوتي تو کم از کم
يہاں آنے کي جرات کے بعد ميں نے تمہيں کم ازکم تمہيں چھوا ضرور ہوتا، دھيرے سے
تمہارے ہاتھوں کو بدن کو کيسے بولتا ہے۔۔۔کيسے آگ اگلتا ہے، ليکن تم۔۔۔۔تم تو بند
کمرے ميں اپني ہي شرط کے باوجود، چھونا تو دور اسے ديکھنے کي بھي ہمت نہيں
کرسکے۔۔۔ايک لمحے کو جيسے اس کے اندر برقي لہر دوڑ گئي،بے حد نفرت کي آگ ميں سلگتے
ہوئے صوفيہ احمد نے اسے زور کا دھکا ديا۔۔۔گيٹ لاسٹ۔
لڑکا پہلے ہڑ بڑايا، پھر سرعت کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گيا، ايک لمحہ کو صوفيہ
مشتاق احمد مسکرائي، اپنا عکس آئينہ ميں ديکھا۔۔۔نہيں اب اسے مضبوط ہونے کي کوئي
ضرورت نہيں ہے، اس نے ٹھنڈا سانس بھرا، باہرکہا سے گر رہے تھے، سرد ہوا تيز ہوگئيں،
کھڑکي کھلي رہ گئي، اف اس درميان وہ جيسے وہ دنيا و مافيا سے بالکل بے خبر ہوگئي،
نيز جسم ميں طوفان برپا کرنے والي سردي کو بھي۔۔۔اس نے اپنے ہي دانتوں کے کٹکٹانے
کي آواز سني اور اچانک ايک لمحے کو وہ ٹہر گئي، وہ جاني پہچاني دستک۔۔۔خوفناک
آوازوں کا شور، جيسےديوار پر کوئي رينگ رہا ہو کيا ويپمائر؟۔۔۔۔۔ڈراکيوالا؟ باہر
يقيننا اس پر اسرار تماشے کا حال جاننے کيلئے اس کے گھر والے موجود ہوں گے۔۔۔اور اس
کا بے چيني سے انتظار بھي کررہے ہوں گے۔
مگر يہ دستک ۔۔۔خوفناک آوازيں۔۔۔ديوارون پر رينگنے کي آواز۔۔۔جيسے ہزاروں کي تعداد
ميں چمگادڑيں اڑ رہي ہوں، پيڑوں پر الو بول رہے ہوں، شہر خموشاں سے بھيڑيوں
کي چيخ سنائي دے رہي ہو۔۔۔۔وہي رينگنے کي آواز۔۔۔۔ برفيلي تيز ہوا سے کھڑکي کے پٹ
ڈول رہے تھے۔۔۔وہ تيزي سے آگے کھڑکي کي طرف بڑھي۔۔۔۔۔
گہري نيند کے باوجود شہر خموشاں کا منظر سامنے تھااور وہاں ديار پر چھپکلي کي طرح
رينگتا ڈراکيوالا، اس بار اس سے بے حد کمزور لگ رہا تھا۔۔۔۔۔شايد شہر خموشاں ميں
واپس اپنے کوفن ميں ليٹنے جارہا تھا۔
جبکہ صبح کي سپيدي چھانے ميں ابھي کافي دير تھي۔۔۔۔۔ |
|
اگلا صفحہ |
(14) |
پچھلا صحفہ |
|
 |