|
|
| ڈراکيوالا |
نے خوفزدہ ہو کر ديکھا، يقينا يہ ڈراکيوالا
تھا، ہونٹ انساني خون سےتر۔۔۔۔۔دانت، لمبے بڑے اور سرخ۔۔۔۔وہ اپنے، کو فن سے باہر
آيا تھا، صبح کي سپيدي تک اپنے ہونے کا جشن منانے يا پھر انساني خون کا ذائقہ تلاش
کرنے۔۔۔۔وہ يکبارگي پھر خوف سے نہا گئي، کسي اسپائيڈر مين کي طرح ڈرا کيولا اس کي
طرف ديکھ رہا تھا، ديوار پر آرام سے چھپکلي کي طرح۔۔۔۔پنجوں پر اس کي گرفت مضبوط
تھي، وہ اسي کي طرف ديکھ رہا تھا، اس کي گھگھي بند گئي، وہ چيخنا چاہتي تھي
مگر۔۔۔۔رينگتا ہوا، ڈراکيولا، ايکدم، دوسرے ہي لمحے اس کے کمرے ميں تھا۔۔۔۔اس کي
آنکھوں ميں وحشيانہ چمک تھي۔۔۔۔اور اس کے نوکيلئے دان اس کي نازک ملائم گردن کي طرف
بڑھ رہے تھے، اس کي آنکھوں ميں نيم بے ہوشي کي دھند چھا رہي تھي۔
مصنف سے صوفيہ مشتاق احمد کي بات چيت۔
اف، يہ ڈرائونا خواب، ليکن اس صدي ميں ڈراکيوالا۔۔۔۔۔آپ کتابيں بہت پڑھتي ہيں
ڈراوني کتابيں؟
نہيں پڑھتي
پھر يہ خواب
نہيں يہ خواب نہيں ہے۔۔ديکھئے۔
مصنف کيلئے يہ صبر آز ما لمحہ تھا، يقينا اس کي گردن کي ملائم جلد کے پاس کئي داغ
تھے۔۔۔ليکن کيا يہ ڈراکيولا کے نوکيلے دانتوں کے نشان تھے، يا۔۔۔۔مصنف ان اذيت
گزار، لمحوں کے سفر سے پھيکي ہنسي ہنستا ہوا اپنے آپ کو باہر نکالنے کا خواہشمند
تھا۔۔۔
يقينا يہ داغ۔۔۔۔آپ سمجھ رہے ہيں نا، ايک صبح ہم اٹھتے ہيں، اور کيڑے
نے۔۔۔۔۔کيرا آپ سمجھ رہے رہيں نا۔۔۔۔؟
صوفيہ مشتاق احمد کا چہرہ اس وقت ليوناڈوي نچي کي پينٹنگ مونالزا کي طرح ہو رہا
تھا، جس کے تاثر کو آپ لفظوں کا لباس پہنا ہي نہيں سکتے، يقينا۔۔۔وہ کيڑا ہي تھا،
نوکيلے دانتوں والا ايک خوفناک کيڑا۔۔۔۔۔آپ سے زيادہ بہتر کون جانے گا کہ اس صدي
ميں انسان سے زيادہ خوفناک کيڑا۔۔۔۔دوسرا کون ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔
ہے۔۔۔ہے۔۔۔۔ہے۔۔۔مصنف پھيکي ہنسي ہنسنے پر مجبوتھا، يہ سب تو دانشوري، دانشمندي کي
باتيں ہيں۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔۔ہے۔۔۔۔۔
مصنف کے الفاظ کھوگئے تھے۔۔۔۔ليکن وہم و گمان کي ايک بے نام سي کہاني يہ بھي تھي کہ
مصنف نے وہ داغ ديکھے۔۔۔۔اور يقينا وہ داغ اس کي گردن پر موجود تھے۔۔۔۔۔
ليکن اس کہاني کے ساتھ اس بے معني گفتگو، ڈراکيولا، صوفہ مشتاق احمد کي گردن ميں
پڑے ڈراکيولا کے نوکيلے دانتوں کے نشاني کا کوئي رشتہ نہيں ہے۔۔۔۔ليکن يقينا اس
گفتگو کے بعد ہي اس کہاني کي بنياد پڑي تھي اور يقينا اب جو کچھ ميں سنانے جارہا
ہوں وہ بيان کي شکل ميں ہے اور اس بيان ميں ميں شامل ضرور ہوں، ليکن يہ يقين کرنا
ضروري ہے کہ اس کہاني ميں اپني طرف سے ميں نے کوئي اضافہ ضرور ہوں، ليکن يہ يقين
کرنا ضروري ہے کہ اس کہاني ميں، اپني طرف سے ميں نے کوئي اضافہ يا الٹ پھيڑ نہيں
کيا ہے۔۔۔اس سے پہلے کہ الگ الگ بيانات کا سلسلہ شروع ہو، مختصر اس کہاني کے
کرداروں سے آپ کا تعارف کرداوں، دلي جمنا پاررہائشي علاقے ميں ايک چھوٹي سي مڈل
کلاس فيملي۔۔۔۔بڑي بہن ثريا۔۔۔مشتاق احمد، عمر پينتيس سال، ثريا کے شوہر اشرف
علي۔۔۔۔عمر چاليس سال، نادر مشتاق احمد، ثريا کا بھائي، عمر 30 سال اور ہماري اس
کہاني کي ہيروئن، نہيں معاف کيجے گا، بڑھتي عمر کے احساس کے ساتھ ايک ڈري سي سہمي
لڑکي ہماري کہاني کي ہيروئن کيسے ہوسکتي ہے، صوفيہ مشتاق احمد، عمر 25 سال۔
تو اس کہاني کا آغاز جنوري مہينہ کي 8 تاريخ سے ہوتا ہے، سردي اپنے شباب پر تھي،
سرد ہوائيں چل رہي تھيں، دانت سرد لہري سے کٹکٹا رہے تھے، ليکن، جمنا پار، پريہ
درشني وہار، فليٹ نمبر پي 302 ميں ايک نا خشگوار حادثہ وقوع پذیر ہوچکا تھا۔
کوئي تھا جو تيزي سے نکلا۔۔۔۔پہلے لڑ کھڑايا، پھر باہر والے دروازہ کي چٹخني کھولي
اور تيز تيز، سرد رات اور کہاسوں کے درميان، سيڑھيوں سے اترتا ہوا، بھوت کي طرح
غائب ہوگيا، وہ چلا گيا،يہ جيجو تھا، صوفہ مشتاق احمد کا جيجو، آنکھوں ميں خوف اور
الجھن کے آثار |
|
اگلا صفحہ |
(2) |
پچھلا صحفہ |
|
 |