Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | آپ کے مضامين | مشرف عالم ذوقي
ڈراکيوالا
وہ چلا گيا اور ہمارے ديکھتے ہي ديکھتے۔
نادر مشتاق احمد نے نظريں اٹھائيں، منظر کچھ ايسا تھا جيسے ويتنام اور ناگا ساکي، ايٹم بم دھماکے کے بعد نديوں سے اٹھتے ہوئے آگ کے شعلے آسمان چھو گئے، ہوں۔۔۔۔کيا ہوا، اسي سے پوچھتے ہيں۔
ليکن کيا پوچھيں گے آپ۔۔۔۔ثريا جيجو کي طرف مڑي، پھر ايک لمحے کو نظر اٹھا کر اس نے نادر کي طرف ديکھا۔۔۔۔جذبات پر قابو رکھو، اف، ديکھو۔۔۔۔۔وہ کيا کر رہي ہے۔۔۔
شايد وہ آرہي ہے۔۔۔۔جيجو نے ہونٹوں پر انگلي رکھي۔۔۔۔۔
کوئي اس سے کچھ بھي نہيں پوچھے گا۔۔يہ ثريا تھي۔۔۔
تم بھي کيسي باتيں کرتےہو باجي، کوئي اس سے بھلا کيا پوچھ سکتا ہے، وہ بھي اس ماحول۔۔۔۔اور ايسے عالم ميں۔۔ليکن کچھ۔
کچھ نہيں ہوگا۔
ہم نے فيصلہ کرنے ميں۔۔۔۔
ثريا مشتاق احمد ايک لمبا سانس ليا، آواز ڈوبتي چلي گئي، کہہ نہيں سکتي۔۔۔مگر اس نے اپنے شوہر اور نادر مشتاق احمد کي طرف ايک گہري نظر ڈالي۔۔۔۔ہم نے آپس ميں بات کي تھي، اس کے سوا ہمارے پاس دوسرا راستہ ہي کيا تھا۔
وہ آرہي ہے اور اب ہميں خاموش ہوجانا چاہئے۔۔۔۔۔اور يقينا ہمارے تاثرات ايسے نہي ہونے چاہئيں کہ اسے کسي بات کا شک ہو کہ ہم، اس کے بارے ميں کيا سوچ رہے ہيں۔۔۔۔اور يقينا ہميں اس کي نفسيات کي بھي سمجھنا ہوگا۔
يہ جيجيو تھا۔
باہر کہا ساز زمين پر گر رہا تھا، رات برف سے زيادہ ٹھنڈ ہوگئي تھي، دروازہ  چر چڑانے کي آواز ہوئي، برف پگھلي، وھند چھٹی، سامنے صوفيہ کھڑي تھي، ايک لمحے کو وہ ان کے پاس آ کر ٹہري، ليکن رکي نہيں۔۔۔۔دوسرے ہي لمحے اپنے کمرے ميں واپس لوٹ گئي۔۔۔۔
پہلا بيان ثريا مشتاق احمد۔
ميں ثريا مشتاق احمد، پيدا ہوئي اتر پرديش کے بلدن شہر ميں، محلہ شيخاواں، مسلمانوں کا محلہ تھا، زيادہ تر شيخ برادري کے مسلمان۔۔۔پاس ميں مسجد تھي، پاپا مشتاق احمد کي چھوٹي سي دکان تھي، اسٹيشن روڈ پر، پنج گانہ نمازي۔۔۔۔پيشاني پر سجدے کے داغ، چہرہ ايسا نوراني اور معصوم کہ ميں نے زندگي ميں آج تک ايسا چہرہ نہيں ديکھا اور ممي تو جيسے گائے تھيں، نادر چھوٹا بھائي تھا، اس سے پانچ سال چھوٹا اور صوفيہ سمجھ سے دس سال چھوٹي تھي۔۔۔بچپن ہي ميں چھوٹي چھوٹی آنکھيں مٹکاتي تو شرارت سے سارا گھر خوشي سے جھوم جايا کرتا۔
کالج ميں داخلے سے قبل ہي اشرف زندگي ميں آگئے۔۔۔۔۔کيسے۔۔۔۔؟يہ لمبي کہاني ہے، چھوٹے سے شہر ميں ايسي کہانيوں سے پر لگ جاتے ہيں، پھر کبوتر کي طرح پرواز کرتي ہيں يہ کہانياں شيخاواں کے ايک گھر سے دوسرے گھر ميں گونجنے لگي تھيں۔۔۔
مما کو ہائپر ٹينشن تھا۔۔۔۔
پپا جلد گھر آجاتے تھے، طبعيت خراب کا بنانہ بنا کر۔۔۔پڑوس والي مسجد سے نماز کي صدا بلند ہوتے ہيں وہ تيز تيز لپکتے مسجد جايا کرتے، وہاں سے آتے تو لفظوں کے تير سے اداس اور گھائل ہوتے۔۔۔ممي اور وہ دو گھنٹوں اشرف کے بارے ميں باتيں کرتے رہتے۔۔۔۔مثلا کيوں آتا ہے۔۔۔۔۔کيا کام ہے۔۔۔خاندان تو اچھا ہے نا۔۔۔يہ لڑکي ناک تو نہيں کٹائےگي، صوفيہ کافي چھوٹي ہے۔۔۔۔
اگلا صفحہ (3) پچھلا صحفہ
Please use the forum for any questions!
This page has 3 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu