|
|
| لينڈ اسکيپ کے گھوڑے |
سامنے آکر اس نے اپني ہتھلياں ميري طرف بڑھائيں۔
يہ ميرے دوسرے گھوڑے کا چہرہ تھا۔
اور اس کے ٹھيک دو دن بعد ہي ميرے لئے ايک دستي خط اور ايک دو گھوڑون کا پورٹريٹ
چھوڑ کر حسين پاکستان واپس لوٹ گئے تھے۔۔۔۔ خط ميں ايک جملہ اور بھي تھا، جسے ميں
نےجان بوجھ کر کہاني کے حسين اختتام کيلئے آپ سے چھپا کر رکھا تھا۔۔۔ اصل ميں حسين
کے آنا فانا پاکستان بھاگنے کے پيچھے بھي ايک راز تھا اور اسي لئے خط کے آخر ميں
حسين نے تحرير کيا تھا۔۔۔ مائي ڈير وہ لڑکي مجھ سے شادي کے لئے راضي ہوچکي
ہے۔۔۔پاکستان جاکر بہت سے کام مکمل کرنے ہيں، ميں بہت جلد واپس آئوں گا، عقد مسنونہ
کيلئے ميرے لئے اپنے انتظار کو سنبھال کر رکھنا، بس الٹي گنتي شروع کردو، ميں
پہنچنے ہي والا ہوں، تمہارے ملک ۔۔۔اپنے ملک۔۔۔۔۔
دہشت گردي بنام جنگ اور حسين کي آمد۔
يہ انہي دنوں کا واقعہ ہے جب اي ميل سے مجھے حسين کا پيغام ملا تھا، ميں آرہا ہوں،
ميں بہت جلد تم سے ملوں گا، بائيس برسوں کي مسافت کم نہيں ہوتي يار۔۔۔۔۔ اور جب آپ
نے محسوس کيا ہو کہ وہ برس تو آپ نے خرچ ہي نہيں کئے، دراصل ہم دونوں نے وہ 22 برس
اپني اپني ذات کي تحويل ميں رکھ کر، کنجي وقت کے حوالے کر دي تھي۔۔۔۔وقت نے اب جاکر
يہ کنجي ہميں واپس کي ہے، يقين جانو، يہ ايک انوکھي شادي ہوگي۔
اور آپ جانئيے يہ انہي دنوں کا واقعہ ہے جب دنيا کي تقدير ميں دہشت کے نئے باب لکھے
جارہے تھے، قارئين يہ کہاني کي مجبوري ہے کہ يہ اپنے وقت اور حالت کے تجزئيے کے
بغير مکمل نہيں ہو سکتي۔۔۔۔پرانے ہزارہ کے تاريخي دھماکے ابھي کم بھي نہيں ہوئے تھے
کہ نئے ہزارہ کي چيخوں نے انسانيت کي کتاب ميں کتنے ہي لہو لہو باب کا اضافہ
کرديا۔۔۔۔11 ستمبر ورلڈ ٹريڈ سينڑ اور پينٹا گون پر دہشت گردي کےہنگامے کے بعد ہندو
پاک کے درميان کشيدگي بڑھتي چلي گئي۔۔۔۔ |
|
اگلا صفحہ |
(17) |
پچھلا صحفہ |
|
 |