|
|
| لينڈ اسکيپ کے گھوڑے |
پھر 13 دسمبر ہندوستاني پرليمنٹ پر دہشت پسندوں کے حملے کي بعد صورت حال آہستہ
آہستہ جنگ ميں تبديل ہوتي چلي گئي۔۔۔نتيجے کے طور پر اپني اپني سطح پر دونوں ہي
ملکوں نے کئي بھيانک اقدام اٹھائے۔۔۔۔ہندوستان نے نہ صرف اپنا سفارت خانہ بند کيا
بلکہ اپنے ہائي کمشنر بھي واپس بلائے۔۔۔۔۔۔فضائيہ اڑانوں پر بھي پابندي لگادي
گئي۔۔۔ابھي تعلقات سرحدو ں پر آخري کيل ٹھوکنے کي کاروائي باقي تھي۔
اور وہ کاروائي تھي۔۔۔۔ہندوستان سے پاکستان جانے والي سمجھوتہ ايکسپريس اور بسوں کو
بند کرنے کي کاروائي۔۔۔۔
قارئين ان پابنديوں کا وقت ہي تھا، جب حسين اپني بائيس برسوں کي گمشدہ محبت کو دنيا
عنوان دينے کيلئے ہندوستان آنے والے تھے۔۔۔۔ يعني سمجھوتہ ايکسپريس سے باراتيوں کا
قافلہ آنے والا تھا۔
سرحديں بارود اگل رہي تھيں، واگہہ بارڈر سے دلي بس اڈے تک گھنا کہرا چھايا ہوا تھا،
باہر سرد لہر چل رہي تھي، ميں اپنے ڈرائنگ روم ميں تھا۔
اچانک يوں ہوا۔۔۔۔ پورٹريٹ سے حسين کے دونوں گھوڑے کودے اور ميرے سامنے آکر
کھڑے ہوگئے۔۔۔۔ميں نےغور سے ديکھا، يقينا يہ پارتھينان کے آدھے حصے والے گھوڑے اپنے
حسن ميں مکمل تھے، ليکن يہ گھوڑے ٹہرے نہيں بلکہ پلک جھپکتے ہي ڈرائنگ روم سے اوجھل
ہوگئے، ميں نے ڈرائنگ روم ميں ديوار پر آويزاں پورٹريٹ کي طرف ديکھا۔۔۔۔ وہاں ايک
خالي کينواس پڑا تھا، مجھے حسين کے الفاظ شدت سے ياد آرہے تھے۔
سب سے بري خبر لکھي جاني ابھي باقي ہے، سب سے بري خبر يہ ہوگي، کہ محبت کرنے
والے نہيں رہيں گے، سب سے بري خبر کا تعلق محبت سے ہوگا دوست۔
اور ميں نے جوابي کاروائي کے طور پر کہا تھا۔۔۔۔سب سے بري خبر آہستہ آہستہ لکھي
جائے گي، جنگ اور دہشت کے ماحول ميں۔۔۔۔۔۔ |
|
اگلا صفحہ |
(18) |
پچھلا صحفہ |
|
 |