| مادام ايليا کو جاننا ضروري
نہيں.... فيروز اور مادام ايليا کے درميان ايک بے ربط مکالمہ۔
دونالي بندوق اور ڈريسنگ گائون۔۔۔۔۔اس نے حامي بھري۔ سر کو ايک ذرا
سي جنبش دي، گو ايسا کرتے ہوئے اس کے چہرے کي جھرياں کچھ
زيادہ ہي تن گئي تھيں اور گول گول چھوٹي چھوٹي آنکھوں کي سرخياں
کچھ اسيے پھيل گئي تھيں، جيسے گرمي کے دنوں ميں انڈے کي زردياں
پھيل جاتي ہيں۔
ہاں اتنا کافي ہے، زندہ رہنے کو اس سے زيادہ اور کيا چاہئيے۔۔۔۔۔اس
نے ہونٹ ہلائے اور سوکھے ہونٹوں پر جمي پيٹيوں کے درميان شگاف بنتے
چلے گئے۔
مگر ميرے پيارے بوڑھے فوجي تمہيں کچھ اور بھي چاہئے۔۔۔بوڑھي مادام
ايليا کے لہجے ميں دردمندي تھي۔۔۔بہت زيادہ کچھ،ميرے پيارے بوڑھے
فوجي، اس عمر ميں تو چاہنے کي طلب بہت زيادہ بڑھ جاتي ہے، سمجھ رہے
ہونا تم۔۔۔۔؟
فيروز راہب وہ معمر مرد جو اس کے سامنے بيٹھا تھا، دھيرے دھيرے
بندوق گھماتا رہا، جيسے ايسا کرتے ہئوے مادام ايليا کي چھبتے الفاظ
کي ناپ تول کر رہا ہو۔
آہ تم نے محبت بھي نہيں کي۔ جب کہ موقع تھا تمہارے پاس۔۔۔۔مادام
ايليا کے لہجے ميں ناراضگي تھي۔۔۔۔اچھے بچوں کي طرح چپ چاپ بيٹھے
رہوں ميرے پيارے بوڑھے فوجي۔
چپ چاپ، سمجھ رہے ہو نا تم۔جبکہ محبت کے مواقع تھے تمہارے
پاس۔۔۔مگر تم نے وقت گنواديا۔۔۔تمہيں محبت کرنئ چاہئيے تھي۔۔۔۔اس
عمر ميں پراني محبت کا خيال ۔۔۔۔۔؟ تم نہيں جانتے۔ اس سے عمدہ تو
وہ مشروب بھي نہيں ہوتي، جسے تم اب اپني زندگي سے زيادہ پيار کرتے
ہو، نہيں پيارے فوجي ايسے مت ديکھو۔۔۔ايک سينڈوچ اور مل سکتا ہے؟
نہيں سب سينڈوچ نہيں ہے،\۔
معمر عورت ٹھا کا لگا کر ہنسي۔ ميرے پيارے بوڑھے فوجي، مجھے پتہ
ہے، سينڈوج اور انہيں مل سکتا، ذرا ٹھرو، ايک بار چيک تو کرلوں۔
وہ بمشکل اپني جگہ سے اٹھي، اٹھ کر کيکروعن، کي بني اليمر تک گئي،
اليمر کي ايک خالي ريک ميں کچھ دير تک اپني آنکھيں گھما فھما
کر کچھ ديکھتي رہي، پھر بلاوجہ ہنسي۔
افسوس ۔ نہيں ہے، مگر کيا ہوا، سينڈوچ تو دوبارہ آسکتے ہيں، مگر
ميرے پيارے فيروز۔۔۔۔۔اس بار اس نے بوڑھے کو اس کے نام سے پکارا
تھا۔۔۔مگر تم تو نہيں آسکتے اور سنو۔ مات کھانا تو مرنے سے بدتر
ہے، کيا تم مرگئے ہو۔۔۔۔؟ سينڈوچ کي طرح زندگي دوبارہ تو نہيں مل
سکتي ۔۔۔۔؟
بوڑھے فيروز نے دونالي کا رخ اپني طرف کيا، پھر نال اپني پيشاني سے
ہٹالي، بزدلي، آہ، حال سے بيزاري اور مستقبل کا نشہ ختم ہوجائے
تو۔۔۔۔آہ تم سمجھ رہے ہونا، زندہ رہنے کے |