Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children


  اردوادب | آپ کے مضامين | مشرف عالم ذوقي
لئيے، وہ اپنا مکالمہ ادھورا چھوڑ کر اس طرف ديکھ رہي تھي۔

بچن کے واقعات اور تذکرہ پہلي گولي کا۔

ان دنوں فيروز بہت چھوٹا تھا اور سچ پوچھئيے تو بچپن ميں ايسے خيالات پيدا نہيں ہوتے ہيں، جيسا کہ اس کے اس کے دل ميں پيدا ہوتے تھے۔۔۔ان دنوں زيادہ تو وہ ايک چرمي واسکٹ پہنتا تھا، جو اس کے باپ نے اس امتحان پاس ہونے کي خوشي ميں تحفے ميں ديا تھا۔۔۔اور وہ اسے پہن کو خوش ہوتا تھا کہ اس سے زيادہ خوبصورت شے دنيا ميں اور کوئي نہيں، جاڑا ہو، گرمي يا برسات ، وہ اسے اتار نے کا نام نہيں ليتا، ہاں پہلي بار چرمي واسکٹ اس نے اپنے بدن سے تب الگ کيا جب اس نے سنا کہ۔۔۔۔۔
وہ جاڑے کے دنوں کي ايک رات تھي، روشني کئي دنوں سے نہيں تھي، کمرے ميں بھبھکتا ہوا ايک لالٹين جل رہا تھا، باہر کتے بھونک رہے تھے اور اس نے ديکھا، لالٹين کي دھيمي روشني ميں اس  کے باپ کا چہرہ سياہ پڑ اہوا تھا، باپ سہما سا ماں کے چہرے پر جھکا ہوا تھا۔
تم سن رہي ہونا۔۔۔۔۔جنگ ہونے والي ہے، آہ جنگ جو ہمارے لئے تباہي لائيگي۔
شي ۔۔۔اس نے ماں کي آواز سني دھيرے بولو، ماں کي آواز لڑکھڑا رہي تھي۔۔۔۔يہ جنگيں ختم نہيں ہوسکتيں؟
اس نے باپ کو خوفزدہ چہرے کا عکس ديکھ، جو گہرے سناٹے کي طرح شانت تھا۔۔نہيں جنگيں ايک بار پھر شروع ہوگئيں، تو پھر نہيں رکتيں، ہاں بيچ بيچ ميں سيز فائر ۔۔۔مگر ۔۔۔۔سيز فائر،۔۔ماں چونک گئي تھي۔
جنگيں ايک خاص مدت کيلئے بند کردي جاتي ہيں، باپ ٹھر ٹھر کر کہہ رہا تھا۔۔۔۔تم سمجھ رہي ہونا۔۔۔يہ ايک طرح کا معاہدہ ہوتا ہے۔۔۔۔مگر جنگيں جارہي رہتي ہيں۔۔۔۔سيز فائر اس لئے ہوتے ہيں کہ جنگ ميں لذت پيدا کي جاسکے۔
ايليا اس سے دو برس بڑي تھي، صبح کھانے کي ميز پر اس نے ديکھا، اس کا باپ کچھ زيادہ ہي رنجيدہ تھا، اس نے ايليا کو قريب بيٹھنے کيلئے کہا، پھر باري بار سے سب کي طرف ديکھتا رہا، اس کا انداز ايسا تھا جيسے وہ لام پر جا رہا ہو، سب کو چھوڑ کر۔۔۔۔
پھر باپ نے نظر نيچي کرلي۔۔۔۔۔مگر وہ دھيرے دھيرے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔آہ ايليا۔۔۔۔تم جانتي ہونا، بلياں کتے اپني ديکھ بھال کرنا اچھي طرح جانتے ہيں مگر۔۔۔۔ہم انسان۔۔۔۔وہ اٹک رہا تھا۔۔۔۔مان لو۔۔۔کل سے اس ميز پر ايک آدمي کم ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔؟ وہ ٹھرا اور اتني دير ميں باپ نے اپنے حواس بحال کئے۔۔۔يعني ميں۔۔۔وہ مسکرارہا تھا۔۔۔گھر کي چھت سے سياہ بادل لٹک رہے ہيں ميرے جان، يہ بادل کيسي بھي وقت کمرے ميں آسکتے ہيں۔
فيروز نے ماں کو ديکھا۔۔۔ماں کي آنکھوں میں نہ تعجب کا اظہار تھا نہ ہمدردي کا۔ اس کے بر خلاف ماں نے چندھي آنکھوں سے باپ کو ديکھا اور ہونتوں پر انگلي رکھ کر۔۔۔۔بولي شي۔۔۔ديواروں نے سن ليا تو۔
بلياں اپني حفاظت کرنا جانتي ہيں، کتے اور دوسرے جانور بھي۔۔۔۔۔
فيروز نے اپنے چمڑے کي واسکٹ پر اپنا ہاتھ پھيرا ۔۔۔۔اس نے ايليا کو ديکھا جو اچانک باپ سے لپٹ گئي۔۔۔۔۔

اگلا صفحہ (2) پچھلا صفحہ
Please use the forum for any questions!
This page has 2 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu