|
|
| پرندے کو ماردو |
پرندے کو ماردو
نغمہ خاموش ہو جائے گا۔
30 اپريل 2004۔
پاکستان سے آصف فرخي نے خوش خبري دي۔۔۔ہم پو کے مان کے دنيا شائع کرنے جارہے ہيں،
آپ چند سطورلکھ ڈالے۔
ايک لمحے کيلئے سوچ ميں گرفتار ہوگيا، کيا لکھوں، آج تک جتنے بھي ناول منظر عام پر
آئے ميں نےکسي ميں بھي کچھ بھي نہيں لکھا۔۔۔۔ اور ايک ناول لکھنے کے بعد، کچھ اور
لکھنے کيلے باقي ہي کيا رہ جاتا ہے، مگر پاکستاني ايڈيشن ۔۔۔۔شايد 47 کي اسي ترقي
پسندي نے مجھے پيش لفظ تحرير کرنے کا جواز فراہم کيا۔۔۔۔ کيا يہ ہي تبديلياں
پاکستان ميں بھي رونما ہوئي ہيں۔۔۔۔؟
يعني۔۔۔
پرندے کو مار دو
نغمہ خاموش ہو جائے گا۔
تہذيب کا قتل کر دو تو۔۔۔؟
انسان مر جائے گايا۔۔۔۔؟
ايک زمانے ميں نغمہ کي کيميائي گري تلاش کرنے کيلئے پرندوں کي چير پھاڑ کيا کرتے
تھے۔
ھما کے ٹکڑے کر دو
موسيقي گم ہوجائے گي۔
انسان کو خود مختار چھوڑ دو۔
جمہوريت کو بے لگام رہنے دو۔۔۔۔سماج سے سياست تک آج اخلاقيات کي دہائياں دينے والوں
کي کمي نہيں۔۔۔بڑے سياسي گدھ، دہشت گردي کے ننگے رقص ميں اخلاق کي روٹيان سيکتے نظر
آتے ہيں تو مرنے کو جي چاہتا ہے، کوئي ہٹلر،کوئي بش جب اپنے خطرناک منصوبوں کو
انجام دينے کيلئے کوئي دليل کوئي تعبير پيش کرتا ہے تو شرم محسوس ہوتي ہے، ادب
ثقافت اوپيرا سے موسيقي، فن سے فنکار تک۔۔۔ ہم ايک گہرے
Pollution ميں گھرتے جارہے ہيں۔۔۔۔۔شايد اسي لئے جب ايڈورڈ سعيد نے اپني
مشہور زمانہ تصنيف اورينٹلرم ميں مشرقي اقوام اور تمدن کي بحث چھيڑي تو مغرب کے
دانشور چونکے گئے۔۔۔ اور ان کا چونکنا مہذب دنيا کے لئے ايک بڑے حادثے کي طرح
تھا۔۔۔۔۔
مجھے لگا مجھے اس حادثے کو گواہ بننا چاہئيے، ايک لکھنے والا وقت کي عينک اتار کر
دو رس نتائج سے باخبر ہو کر اپني تحرير کو ايک ذمہ دار تحريرنہيں بنا سکتا، شايد
اسي لئے دوسري زبانوں کے اديب زيادہ کامياب رہتے ہيں کہ ان کي آنکھيں نہ صرف جاگتي
رہتي ہيں بلکہ چاروں جانب ديکھتي بھي رہتي ہيں، دور کيوں جائيے، ارندھتي رائے کي
مثال کافي ہے۔ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صحفہ |
|
 |