|
مشرف عالم ذوقي کا سونامي پر
پہلا اردو ناول۔
"بيان" اور "پوکے مان کي دنيا" کي مقبوليت کے بعد مشرف عالم ذوقي
کا تازہ ناول "پروفيسر ايس کي عجيب داستان وايا سونامي" بہت جلد
منصہ شہوو پر جلوہ گر ہونے والا ہے۔ سونامي پر يہ دنيا کي کسي بھي
زبان ميں تحرير کيا جانے والا پہلا ناول ہوگا۔ اس سے قبل ديگر غير
ملکي زبانوں ميں سونامي پر سفر نامہ، ڈرامے وغيرہ منظر عام پر تو
آچکے ہيں مگر اس بھيانک اور غير معمولي تباہي سے متاثر ہو کر شايد
ہي کسي کو اس موضوع پر ناول لکھنے کا خيال بھي آيا ہوگا۔ اور اس کا
سہرا دنيا کي شيريں ترين زبان اردو کو جات اہے۔ يہ کتاب 500سے زائد
صفحات پر مبني ہے ۔مشرف عالم ذوقي کے مطابق سونامي کے بہانے سيات
اور ادب میں در آئي سونامي لہروں کا بے رحمي سے جائزہ ليا گيا ہے۔
دنيا جس وقت اس بھيانک عذاب سے دو چار تھي۔ طاقتور، ملک ملتي نيشنل
کمپنياں ايسے موقع پر بھي سونامي کو کيش کرنے، اشتہارات کا حصہ
بنانے اور اس بہانے اپنا اپنا کھيل ، کھيل رہي تھيں۔ مفاد پرست اور
ضمير فروشوں نے اس تباہي سے بھي کوئي سبق نہيں ليا۔ دراصل بے رحم،
وقت انساني روبوٹ کو اس قدر Immune کر
چکا ہے کہ اب اس انساني مشين ميں جذبات اور احساس باقي ہي نہيں بچے
ہيں ۔مشرف عالم ذوقي نے سونامي کي اس بھيانک تباہي کو ہميشہ کے لئے
ايک اہم دستاويزيا تاريخ بنا کر اپنے ادب ميں محفوظ کر ليا ہے۔ |
| پروفيسر ايس کي عجيب داستان
وايا سونامي |
کچھ ہي دير بعد اندر سے دستک ديئے جانے کا سلسلہ شروع ہوگيا تھا۔ پرويز آگيا تھا۔
دونوں مطمئن انداز ميں باہر گيلري ميں ہي کرسي نکال کر بيٹھ گئے۔ دروازے پر دستک جا
ري تھي۔ پرويز بے نيازي سے سيما کو سونامي لہروں کے بارے ميں بتا رہا تھا۔بيچ بيچ
ميں ان دونوں کا دھيا ن اچانک اسي دروازے پر چلا جاتا۔۔ کيا وہ چيخے گا۔۔؟ يہ سيما
تھي۔۔آہ نہیں ايسي صورت ميں جبکہ آپ کو يہ احساس ہوجائے کہ دروازہ بند ہے۔
پھر وہ کيا کرے گا؟
پھر وہ اپنے انداز ميں غور کرے گا کہ آخر دروازہ کيوں بند کيا گيا۔يا دروازہ بند
کرنے کي ضرورت پيش کيوں آئي؟ |
|
اگلا صفحہ |
(1) |
پچھلا صفحہ |