|
پھر وہ اپنے انداز ميں غور کرے گا کہ آخر دروازہ کيوں بند کيا گيا۔ يا دروازہ بند
کرنے کي ضرورت پيش کيوں آئي؟اور اور اس کے بعد موسيو؟ سيما پروفيسر کے انداز ميں
مسکرائي۔تم نے غور کيا ۔دستک رک گئي ہے۔ اور يقينا اب غور کرنے کا عمل ہے۔مثلا۔۔
اب وہ تمہارے بارے ميں سوچے گا کہ آيا تم ايسا کر سکتي ہو يا نہيں۔۔؟ يا پھر ايسا
کيسے ہوگيا۔۔؟ کہيں غلطي سے تو دروازہ بند نہيں ہوا۔ ابھي وہ بہت زيادہ ٹينشن ميں
نہيں ہوگا۔ وہ تب تک ٹينشن ميں نہيں آئے گا جب تک يہ نہ سوچ لے کہ يہ حرکت جان بوجھ
کر کي گئي ہے اور ميرے خيال سے ۔ بہت زيادہ الجھنے يا سوچنے کے بعد ہي آخر ميں وہ
اس نتيجہ پر پہنچے گا کہ يہ کام تم بھي انجام دے سکتي ہو۔
اس وقت تک جب تک کہ پروفيسر کمرے کے بند ہونے کو ايک معمولي کاروائي سمجھتا ہے،
وہ يہ سوچ کر مطمئن رہے گا کہ يہ اس کا گھر ہے اور تم اس کےگ ھر میيں موجود ہو۔ مان
ليا، بد قسمتي سے وہ اس کال کوٹھري ميں پھنس گيا ہے تو تم اسے زندہ کر سکتي ہو،
مطلب دروازہ کھول سکتي ہو۔ او جب تک وہ اس نوعيت کي باتيں سوچتا رہے گا وہ زيادہ
پريشان نہیں ہوگا۔اور زندگي جينے کي امنگ اس میں بني رہے گي۔
اور اگر موسيو ايک جھٹکے میں اگر اسے يہ خيال آتا ہے کہ تم اس ساذش ميں شريک ہو
اور تم نے باہر سے دروازہ بند کر ليا ہے ۔۔تو؟ تب وہ سب سے پہلے پينٹينگس ہٹانے کے
لئے آگے بڑھے گا۔ لو آواز سنو۔۔
پرويز نے کان بند کيا۔ وہ وہي کر رہا ہے۔ اسے سازش کا اشارہ مل گيا ہے۔ ممکن ہے
وہ اپني جيب ميں موبائل تلاش کر رہا ہو۔ جينے کي آرزو ابھي مري نہيں ہے۔ کيونکہ
پروفيسر کو اطمينان ہے۔ پينٹنگس کے ہٹتے ہي وہ کھڑکي کھول دے گا اور فرحت بخش ہوا
کے جھونکے ميں اپني عمر کے کئي سال آگے بڑھنے کي پيشن گوئي کر دے گا۔ نہيں ٹھرو،
سنو يہ آواز سنو۔۔ پرويز کا لہجہ سرد تھا۔ وہ پينٹنگس اتارنے کي کوشش کر رہا ہے۔ وہ
کرسي کھينچ رہا ہے۔ يعني اب تک اس میں زندگي جينے کي ہمت موجود ہے۔ اس نے اپنے دماغ
کو بکھرنے نہيں ديا ہے۔ کيونکہ وہ جانتا ہے ، دماغ کا ايک کھٹکے سے بھي غلط طرف
جانے کا مطلب ہے۔۔موت کے منہ ميں چلا جانا۔۔ |