|
ليجئے۔ وہ بھاگ کر آيا ہے۔۔اور وہ ۔۔اب وہ دروازہ پيٹ رہا ہے۔۔مگر موسيو۔۔ذرا غور
کيجئے۔۔اس کے ہاتھوں کي قوت جواب دے رہي ہے۔۔سانسيں زور زور سے ۔۔اور يہ کيا پاؤں
کي قوت بھي اب جواب دے رہي ہے۔۔وہ سر اٹھائے گا۔۔ہال کے فانوس کو ديکھے گا ۔۔فادر
امبر وسيو کي عبادت گاہ کا ہلکا اندھيرا اسے زندگي دينے کي ناکام کوشش کرے گا۔۔اور
۔۔مگر وہ چيخ بھي تو سکتا ہے۔۔وہ چيخ کيوں نہيں رہا ۔۔ نہيں آہ موسيو ۔۔آپ نے اسے
چيخنے کے قابل کہاں چھوڑا ہے۔۔اور اس عالم ميں تو قطعي نہيں۔۔بس گھٹي گھٹي
سانسيں۔۔وہ چيخے چلانے کي کوشش کرے گا مگر منہ سے آواز نہيں نکلے گي۔ بس گھگيانے کي
آوازيں ۔۔ايسي آوازيں۔۔زرا سننے کي کوشش کيجئے۔جيسے کتے رو رہے ہوں۔۔اور اب بس۔۔کچھ
ہي منٹوں کي بات ہے موسيو۔۔ہاں تو ميں کہہ رہا تھا۔۔نہيں آپ سن نہيں رہي ہيں
موسيو۔۔ذرا ميري طرف ديکھئے ۔۔غور سے۔۔
پرويز نے ايک بار پھر اس کي گرم چپ چپي ہتھيلوں کو اپنے ہاتھوں ميں ليا۔ سونامي
لہريں پھر آئيں گي۔۔پھر آئيں گي موسيو۔۔کسي بھي روپ ، کسي بھي شکل ميں۔۔جب گناہ
بڑھتے ہيں موسيو۔۔جب جرائم ہماري زندگي کا حصہ بن جاتے ہيں۔ آہ ايک لہر آتي ہے۔دس
ميٹر سے بھي زيادہ بلند۔۔ايک عاليشان ديوار کي مانند ۔۔ہماري آبادي ، ہماري صديوں
کي تہذيب کا تماشہ ديکھنے کيلئے ۔ہمارے پرخچے اڑانے کے لئے۔۔يہ لہريں بار بار آتي
رہي ہيں اور يہ لہريں بار بار آتي رہيں گي۔۔اور موسيو، سائنس اور ٹکنالوجي کي کوئي
بھي پيشن گوئي ان لہروں کا کچھ بھي نہيں بگاڑ سکيں گي۔۔ کيونکہ سونامي کا خطرہ ابھي
کم نہيں ہوا ہے۔ ابھي بہت زيادہ مسکرانے کي ضرورت نہيں ہے۔۔موسيو۔۔سنامي کبھي بھي
آسکتي ہے۔
اور ٹھيک اسي وقت، جس وقت پرويز سانيال يہ مکالمے ادا کر رہا تھا،فادر امبر وسيو
کي عبادت گاہ کے دروازے پر زوروں سے کچھ گرنے يا کسي کے گرنے کي آواز سنائي پڑي۔۔
تم نے کچھ سنا۔۔؟ سيما نے جوف سے پرويز کا ہاتھ تھام ليا۔۔
ہاں ميں سونامي لہروں کي آہٹ سن رہا ہوں۔۔پرويز دھيرے دھيرے بڑ بڑا رہا تھا۔۔۔اور
اس بات کو ياد رکھنا موسيو۔۔چاہو تو ۔۔گرہ ميں باندھ لو۔۔سونامي لہريں پھر آئيں
گي۔۔اور ممکن ہے کہ آبھي چکي ہون۔۔کمرے میں گرنے کي آہٹ کے بعد موت جيسا سناٹا چھا
گيا تھا۔
دونو ں ايک دوسرے ميں ڈوبے ہوئے اس سناٹے کو پڑھنے کي کوشش کر رہے تھے۔ |