کہ رب عظيم جب چاہے جسے چاہے رمضان جيسا اجر دے سکتا ہے۔۔۔کاش ايسے
لوگوں کو مستحقين کي ضرورت اور تکليف کا بھي " احساس " ہوتا۔
قمرو پھر لنگڑا ہوا جھونپڑي ميں داخل ہوا، اب کي بارہ وہ دوڑا نہيں تھا اور نہ اس
نے کوئي صدا لگائي تھي، شايد وہ تھک گيا تھا، اس کے ہاتھ ميں کاغز کي ايک پڑيا تھي،
ہميشہ کي طرح آج بھي اس نے سڑکوں کي خال چھاني تھي اور اپنے کھانے کا اتنظام کرآيا
تھا، پيٹ کي آگ ٹھنڈي پڑتے ہي صبح سے دوڑتا، لنگڑاتا اور صدا لگاتا قمر نيد کي آغوش
ميں جھول گيا۔۔
يہ رات بھي دوسري عام راتوں کي طرح گزري۔۔۔عيد کيصبح گھر سے نکلتے وقت ماں نے قمرو
کو باکل ہي پھٹۓ پرانے کپڑوں ميں ملبوس کيا، چونکہ يہ دنيا صرف ظاہر ديکھتي ہے اس
ليے مفلسوں کو بھي اپني مفلسي اوڑھ کر پھرنا پڑتا ہے ورنہ ان کے اٹھے ہوئے خالي
ہاتھ خالي ہي رہ جاتے ہيں۔
آج ۔۔۔۔۔کل والا سورج پھر نکلا۔۔۔۔۔اس نے ديکھا کہ ہر طرف لوگ اپنے اپنے طريقوں سے
عيد منارہے ہيں، قمرو اور اس کي ماں بھي عيد منا رہے ہيں، ماں ايک لمبي قطار ميں
کھڑي ہے قمرو کبھي يہاں دوڑتا اور کبھي وہاں دوڑتا اپني چھوٹي چھوٹی انگليوں کے
پوروں سے لوگوں کے بازئوں کو ڈرتے ڈرتے چھو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔اسے پتہ تھا کہ آج اگر اس
نے يہ موقع ہاتھ سے جانے ديا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج اب سر پر آچکا تھا، نہ جانے اب وہ کہاں کہاں اور کتنے قمرو اور ان کي مائوں کي
اس طرح عيد مناتے ديکھ رہا تھا۔ |