Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
<


  اردوادب | آپ کے مضامين | نعمان اخلاق
آپ بيتي
گئي چونکہ ابھي اسے اپنے آفيسرز کي طرف سے پيش قدمي کے احکامات نہيں ملے تھے، اس لئے اس نے اپني رجمنٹ کو صرف دفاع تک محدود رکھا تھا، جب اسے دفاع کرتے ہوئے چوبيس گھنٹوں سے زيادہ وقت گزرگيا تو اس نے آفيسرز کي پرواہ نہ کرتے ہوئے حملہ کيلئے اپنا لائحہ عمل تشکيل دے ديا، ليکن خوش قسمتي سے اس دوران اسے نئے احکامات موصول ہوئے جن کے تحت آج رات اس کي رجمنٹ کو ايک بھر پور حملے کا حکم ديا گيا تھا، اپنے آفيسرز کي اس سپورٹ کي وجہ سے اس کي خود اعتمادي ميں خاطر خواہ اضافہ ہوا، اس نے اپنے نوجوانوں کو تين گروپوں ميں تقسيم کيا، جن ميں سے دو کو اک طرف سے اور ايک کو فرنٹ سے حملہ آور ہونا تھا، اک طرف کے گروپوں کي کمانڈ اس نے اپنے دو انتہائي دلير  جونيرز کے حوالے کي اور خود فرنٹ گروپ کي کمانڈ سنبھال لي، تينوں گروپوں نے اپنے مورچے سنبھال لئيے، اور اندھيرا چھانے کا انتظار کرنے لگے، عشا کي نماز کيپٹن نے مورچے ميں ہي ادا کي اور اپنے مشن کي کاميابي کيلئے دعا مانگي،وہ جانتا تھا کہ انشاء اللہ تعالي کاميابي اس کےمقدر ميں ہے کيونکہ اس کي ماں کي دعائيں اس کے ساتھ ہيں،  جو ايک شہدي کي بيوہ اور ايک فوجي کي ماں تھي، اور ہر لمحے اپنے بيٹے کي کاميابي کے لئے دعا گو تھي نماز کے بعد کيپٹں نے اپني فوج کو پيش قدمي کا حکم ديا، کچھ ہي دير بعد دشمن پر افتاٹوٹ پڑي تھي، دشمن اس حملے کيلئے تيار نہ تھا کيونکہ اس سے قبل پاک فوج کا انداز مدافعانہ تھا، بھارتي فوج نے شروع ميں جم کر مقابلہ کرنے کي کوشش کي ليکن کچھ دير بعد بھارتي پسسپا ہونے لگے اور ديکھتے ہي ديکھتے پاک فوج نے تين فرلانگ سے زيادہ علاقے پر قبضہ کر ليا، اس حملے کي کاميابي ميں کيپٹن کي منصوبہ بندي اور بہادي کا نماياں ہاتھ تھا، ليکن دوران جنگ جب کيپٹن چند سپاہيوں کے ساتھ عين چوکي کے سامنے پہنچ چکا تھا تو مارٹر کا ايک گولگ اس کے سينے ميں آلگا تھا، جس سے وہ شديد زخمي ہوگيا تھا اور اس  کے ساتھي بمشکل اسے پيچھے لے آئے تھے، يہاں تک کہہ کر وہ خاموش ہوگيا، نوجوان کيپٹن کے چہرے پر افسردگي کے تاثرات نماياں ہوگئے، اس نے افسوس کا اظہار کيا کہ سيز فائر ہونے کے دونوں ممالک کي فوجيں اپني پوزيشن پر واپس آگئي تھيں اور ان کي ساري محنت رائيگاں گئي تھي، اس بيان پر کچھ دير افسردگي  چھا رہي، حاضرين ميں سے ہر کوئي نوجوان کي اداسي کو محسوس کرسکتا تھا،  کچھ دير بعد نوجوان کے چہرے پر خوشي کي لہر دوڑ گئي جيسے اس نے اپنے آپ پر سے غم کي چادر اتار پھينکي ہو، اس نے دوبارہ کہنا شروع کيا، جنگ ختم ہونے کے تقريبا تين ماہ بعد پاک فوج کے اعزاز سے نوازا گيا تھا، اس کي ماں نے اس کي جگہ تمںہ امتياز وصول کيا تھا، وہ خود بھي اس تقريب ميں موجود تھا اور اپني ماں کے چہرہے پر فخر کے تاثرات ديکھ سکتا تھا، اس کي ماں کو يہ اعزاز تھا کہ اس کے خاوند اور اسے بيٹے دونوں نے ملک کيلئے گراں خدمات سر انجام ديں تھيں، جب کيپٹن کي ماں نے اس کي جگہ اعزاز وصول کيا تو ان کي آنکھوں ميں خوشي سے آنسو آگئے، ليکن ابھي اسے حقيقي خوشي کا انتظار تھا اس کي ہميشہ سے يہ خواہش رہي تھي کہ اس کا ملک
اگلا صفحہ (2) پچھلا صحفہ
Please use the forum for any questions!
This page has 2 comments. View/Add comments.
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu