پرکھوں سے سنتے آئے ہيں کہ بيٹا خدا کي نعمت اور بيٹي رحمت ہوتي
ہے، مگر سرگزست اس Universal Truth کو جھٹلانے پر
مجبور ہے، شايد يہ ميري بد نصيبي ہے يا اک نا دانستہ غلطي، دوسري صورت ميں، ميں
اپني اولاد کو ان کي آبائو اجداد کي خانداني روايات سے آگاہ کرنے ميں ناکامياب رہا
ہوں، جب ميں اپنے خاندان کي کئي سو سال پر مبني تاريخ پر نظر ڈالتا ہوں تو آنکھوں
کو اک الگ ہي سماں نظر آتا ہے، تقريبا تيرہ سينکڑوں سال قبل ہم يہاں فاتح کي حيثيت
سے داخل ہوئے تھے، ہم کئي نامي گرامي بادشاہ گزرے ہيں، ہم لوگوں کو ہر فن مولا
سمجھا جاتا تھا، ہمارے آبا، نے فتون حرب سے لے کر فتون لطيفہ تک ہر ميدان ميں گراں
قدر کام کيا، ايک طرف اگر سخت جان پہلوان اور تجربہ کار سپہ سالار تھے تو دوسري طرف
کمي کلا کاروں اور چتر کارون کي بھي نہ تھي ، ايک سے بڑھ کر ايک کلا کار موجود تھا،
فن گائيکي ميں کئي اقسام اور کئي اقسام اور سر متعارف کرائے گئے فن تعمير ميں کمال
حاصل ہوا، قلعے، محل، مساجد، مدارس اور نہ جانے کيا کيا۔
مگر کہا جاتا ہے کہ عروج کو زوال ہے، پس يورپ ميں صنعتي انقلاب کے رونما ہوتے ہي
ہمارا زوال شروع ہوا، اور رفتہ رفتہ ہم مغلوب ہوتے چلے گئے، دنيا صنعتي ترقي کي طرف
بڑھ رہي تھي اور ہم پائوں ميں گھنگرون باندھے ناچ رہے تھےاور آپ اگر کسي کو ترقي
کرتا ديکھ کر آنکھيں بند کرليں اور Status Quo کو اپني اصل
سمجھ بيٹھيں تو پستي مقدر بن ہي جايا کرتي ہے، يہي ہمارے ساتھ ہوا اور دوسروں کے
اشاروں پر ناچنا ہمارا مقدر بن گيا، ہم غلامي کي زنجيروں ميں جکڑے چلے گئے، نيل کي
تجارت کرنے والے ہمارے آقا بن گئے، تقريبا دو صديوں تک غلامي کا طوق ہم نے اپنے گلے
ميں ڈالے رکھا جس کے نشان آج بھي موجود ہيں۔
جب خدا نے مجھے چاربيٹوں اور دو بيٹيوں سے نوازا تو مجھے اميد کي کرن دکھائي دي،
اور ميں يہ سمجھا کہ خدا نے مجھ پر اپني رحمت و نعمت کے دوازے کھول دئيے ہيں۔
اپني داستان مزيد آگے بڑھانے سے پہلے ميں اپنے بيٹوں سے آپ کا تعارف کرانا ضروري
سمجھتا ہوں کہ کسي قسم کا ذہني انتشار پيدا نہ ہو، ميں نے اپنے بيٹوں کا نام چوہدري
پنجاب، وڈيرہ سندھو، سرحد خان اور سردار بلوچ رکھا اور بيٹوں کا نام بنگلہ
اور کشمير وادي تھا، بنگلہ بڑي تھي، خدا کي رحمت اور نعمت کو اپنے سنگ ديکھ کر ميں
نے غلامي کے عذاب سے نکلنا چاہا مگر خدا کي قدرت ديکھئيے، اس جدو جہد ميں ميري ايک
بيٹی معذور ہوگئي، بہر حال خدا نےمجھے آزادي سے سرفراز فرمايا اور ميں اسي پر صابر
و شاکر ہوں کہ ہوني کو کون ٹال سکتا ہے، کچھ حاصل کرنے کيلئے اپنا بہت کچھ
قربان کرنا ہي پڑتا ہے۔
آزادي اپنے ساتھ خوشي، سکھ اور تحفظ لے کر آتي ہے مگر ساتھ ہي احساس ذمہ داري بھي
بڑھتا جاتا ہے، مجھے بھي اب يہ ذمہ داري بنھاني تھي اور اپني اولاد کي تربيت کرني
تھي، ان کے ذہنوں سے ماضي کي ناخوشگوار يادوں کو مٹانا تھا اور اعتماد کي دولت مہا
کرنا تھي۔
وقت گزرتا رہا يوں سالوں پر سال گزرتے چلے گئے، مگر پھر نہ جانے کيا ہوا ميرے بيٹوں
ميں اختلاف پيدا ہوانا شروع ہوگئے، دوسري طرف ميرا دشمن جو موقعے کي تلاش ميں تھا،
نے ہمارے اندروني اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بنگلہ کو ہميشہ کيلئے ہم سے دور
کرديا اور ہم کچھ نہ کرسکے، ايک کے بعد دوسري بيٹي کا دکھ جدا کي رحمت اٹھتي چلي
گئي، اب ميري واحد اميد ميرے بيٹے تھے، بنگلہ کي جدائي کا غم انہيں بھي تھا مگر
شايد انہوں نے آپس ميں نہ مل کر بيٹھنے کي قسم کھا رکھي تھي۔
اب بھي سامنے ميز پر ميرے بيٹوں کے خطوط بکھرے پڑے ہيں، مگر مجھ ميں ان خطوں کو
پڑھنے کي سکت نہيں کيونکہ مجھے معلوم ہے کہ قدر سنگ دلي سے ان خطوط ميں ايک دوسرے
کو طنز کا نشانہ بنايا گيا ہے، گلے شکوے، شکايات، ايک دوسرے کے خلاف پروپيگنڈہ، بس
اختلافات کا اک انبار ہے، ويج بورڈ ايوارڈ، کالا باغ ڈيم، پاني کي تقسيم ، بين
الصوبائي گندم کي ترسيل اور نہ جانے کيا کاي، ہر کوئي خود مختاري چاہتا ہے مکمل خود
مختاري، اپنے اصول اپنا دستور۔
دوسري طرف ميں اور ميري اولاد شايد مکمل آزادي حاصل کرنے ميں ناکام رہے ہيں، غلامي
کا طوق تو ہم نے اپنے گلوں سے اتار پھينکا مگر اس سے آيا زخم اب بڑھ کر ناسور بن
چکا ہے، ہم اب بھي غلام ہيں ذہني طور پر جس کي ايک چھوٹي مگر واضع مثال ہماري زبان
ميں ولايتي زبان کي آميزش ہے جس کي جھلکياں آپ کو ميري اس تحرير ميں بھي کہيں کہيں
نظر آئيں گي، گو کہ ميں اپني تمام کوششوں ميں ناکام ہوچکا ہوں، مگر ميں نا
اميد نہيں ہو کہ نا اميدي گناہ ہے، اور ميں جانتا ہوں کہ آپ ميں سے کوئي مگر
نہيں۔۔۔
مجھے يقين ہے کہ آپ ہي ميرے چاروں بيٹوں کو متحد کرسکتے ہيں، ضرورت صرف عمل اور
مستقل مزاجي کي ہے۔ |