ميں پھينک ديا الفاظ سخت ہوؤں تو لہجہ کافي ہوتا ہے، اگر لہجہ سخت
ہوتو پھر الفاظ بے معني ہو جاتے ہيں، ساري رات کٹ گئي نيند کي انتظار ميں پر نيند
نہ آئي صبح ہوئي تو ميں جھيل کي طرف چلا گيا تھوڑي دير بعد سحر بھي آگئي ميرا دل
کہتا تھا وہ جھوٹ بول رہي ہے ابھي کہے گي ميں نے مزاق کيا تھا اور پھر ہم دونوں خوب
ہنسں گے مگہر اس نے صرف اتنا کہا کہ ميں تمہارے ساتھ مخلص تھي اور اس رشتے ميں ميري
مرضي شامل نہيں اس ہي لئے ميں تمہارے پاس آگئي ہوں تم سے اچھے ساتھي کي طرح ملتے
رہنا چاہوگي، جس سےمحبت ہوتي ہے اس سے دوستي نہيں ہوسکتي شايد اس نے حالات سے
سمجھوتا کر ليا تھا اس ہي لئے کچھ مطمئن تھي پر ميرے اندر اک گہرا زخم کرگئي،
ميں بھي تم سے جدا ہونے کا فيصلہ کر ليا ہے، جاتي بار اسے بس يہ کہا تم مجھے صرف يہ
مان دي دو کہ تم ميري ہو ميں آج ہي تم سے دور چلا جاتا ہوں ساري زندگي يہ مان ميرے
ساتھ رہے گا پھر چاہے تم کسي کي بھي ہوجانا۔
محبت تو اس جذبے کا نام ہے جو دو مجبوروں کو
خود مختار بناديتي ہے ميں نے تو تمہيں بادشاہ بنايا تھا خود پر حکومت کرنے کو کہا
تھا، احمد شايد قسمت پھر کبھي ملائے نہيں سحر جانے والے کبھي لوٹ کر نہيں آتے اگر
خدا کو ملانا ہوتا تو ہو جدا ہي نہ کرتا تم مجھے جلد ہي بھول جائوں گي کيوں
کہ وقت ہر زخم کا مرہم ہوتا ہے، ليکن مجھ کو بتائوں ميں کيا کروں جس کي روح
کا زخم بھي تم ہو اور مرہم بھي تم، تم اسے اور اپني محبت کو ميں رحيم کےکر، سپرد کر
کے ميں نے آنکھيں بند کرليں دونوں کے بعد ہميشہ کيلئے اپنے قبيلے کے ساتھ مشرق کي
طرف چل پڑا، کچھ ہي دير چلا تھا، کہ کانوں ميں آواز احمد اب کبھي بھي تمہارا ہاتھ
نہيں چھوڑوں گي ميں نے پيچھے مڑ کر ديکھا تو پہاڑ اکيلا تھا وہ ہي پہاڑ جس پر اک دن
ہم ايک دوسرے کا ہاتھ تھامے اوارہ بادلوں ميں آنکھيں بند کيئے کھڑے تھے اور وہ کہہ
رہي تھي۔۔۔۔۔ |