مچھر ايک ايسا نام جسے سنتے ہي کھجانے کو دل چاہتا ہے، جي چاہتا ہے
کہ مچھر سے پوچھيں کہ مياں ايسا نام رکھنے کي کيا ضرورت تھي؟ پھر يہ سوچ کر اس کام
کو پس پشت ڈال ديتے ہيں کہ اس کو کيا معلوم وہ تو اس بات سے بھي بے خبر ہوگا کہ اس
کو جہان فاني ميں مچھر کہا جاتا ہے، چليں يہ تو طے ہے کہ ہم اسے مچھر کہتے
ہيں ليکن سوال يہ ہے کہ اس نام کو سنتے ہيں کھجانے کا دل کيوں چاہتا ہے؟ ظاہر
ہے کہ لفظ مچھر ميں کوئي کانٹے تو ہيں نہيں، دراصل يہ نام جس ذات شريف سے منسوب ہے
وہ انسان کو کھجانے پر مجبور کرتي ہے۔
مچھر ديکھنے ميں تو ايک بے ضرر سا کيڑا ہے جو گرد پيش سے بے خبر ہو کر پرواز کرتا
رہتا ہے، ليکن دراصل اس کا اولين مقصد کاٹنا ہے، اب اگر يہ حضرت صرف کاٹنے ہي پر
اکتفا کرليں تو ميرے خيال ميں انسان اس بات کا برا نہيں منائے گا کيونکہ آج کل
حالات نے ہم انسانوں کا مزاج ايسا کرديا ہے ، کہ چھوٹي موٹي باتوں پر کوئي رد عمل
ظاہر نہيں کرتے، ليکن يہ تو کوئي اچھي بات نہيں کہ کاٹنے کے بعد آپ خون بھي چوسيں
اور جاتے جاتے اپني مہر بھي مثبت کرجائيں جسے کھجاتے کھجاتے انسان بے حل
ہوجائے، مانا کہ بہت ہي کم خون بطور خراج وصول کيا جاتا ہے، ليکن صاحب اس قدر
مہنگائي ميں يہ بھي بہت محسوس ہوتا ہے۔
عام طور پر کسي جاندار پر لکھے جانے والے مضمون کا نکتہ آغاز اس کے آبائو اجداد
ہوتے ہيں کہ وہ کہاں سے آئے؟ کيوں آئے؟ ديکھنے ميں کيسے تھے؟ وغيرہ وغيرہ، ليکن
يہاں معاملہ ذرا مختلف ہے، کيونکہ مچھر کي حرکات سے يہ ظاہر ہے کہ موصوف اگر کروڑون
سال پہلے بھي پائے جاتے تو بھي اس کام ميں مشغول ہوتے جس ميں آج ہيں، يعني کانٹا
اور بلاوجہ کاٹتے رہان، اس سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ مچھر کے آبائو اجداد کا سراغ
لگانا ايک عمل فضول ہے کہ اگر کوئي سراغ ملتا بھي ہے تو بھي مچھر کو کاٹنے سے نہيں
روک سکتے۔
مچھر کي غير معوملي صفات کا اندازہ آپ کو اس وقت ہوتا ہے ، کہ آپ کسي کام مصروف ہوں
اور مچھر کسي جہار کي مانند پروز کرتے کرتے آپ کے ہاتھ يا پائوں کو RUNWAY
سمجھ کر LAND کرجاتا ہے اس کے بعد پھر مچھر جانے اور اس کا کام، اس سےيہ پتہ
ہے کہ خاموشي سے حملہ کرنا اس کي ايک بڑي خاصيت ہے ، ليکن ہماري نظر ميں يہ ايک
نہايت ہي بزدلانہ حرکت ہے، کوئي پوچھے کہ مياں يہ کيا طريقہ ہے؟ اگر حملہ کرنا ہے
تو طبل جنگ بجائو، پھر ديکھتے ہيں کہ۔
زور کتنا بازوئے قاتل ميں ہے |