ساحرہ کو نويد کے ساتھ باتيں کرتے ہوئے پھپھو نے ديکھا تو خوب مصالحے لاگ کر بي
اماں کے کان بھرے اور پھر جب تايا جان آےت تو انہيں بھي نہ جانے کيا کچھ کہا گيا
انہوں نے ساحرہ کو بلوا بھيجا تايا جان کے کمرے کي طرف جاتے ہوئے وہ سوچ رہي تھي کہ
نہ جانے اس بار اس سے کون سي غلطي کردي، اس نے سہمے ہوئے انداز ميں دروازہ کھولا تو
تايا جان کي گرجدار آواز سے وہ کانپ گئي، اندر آجائو، وہ دھڑکتے دل سے ان کے سامنے
کھڑي اپني سزا کي منتظر تھي، ديکھو لڑکي اب تم بچي نہيں ہو اپني عادتوں کو بدلو اور
کسي غير لڑکے سے بات چيت کرنے سے پہلے يہ ضرور سوچ لينا کہ ہمارے خاندان ميں قتل
کرنا کوئي بڑي بات نہيں اسے کچھ سمجھ نہيں آرہا تھا کہ تايا جان کيا کہنا چاہ رہے
ہيں، ليکن پھر بھي وہ تابعدار کي طرح سر ہلاتي رہي، اب تم جائو، وہ تيز تيز قدم
اٹھاتي اپنے کمرے ميں آگئي۔
کالج ميں آخري پريڈ ليتے ہويئے وہ يہي سوچ کر پريشان ہو رہي تھي، کہ آج وہ اکيلي
گھر کيسے جائے گي، نعميہ کو بھي آج ہي بخار ہونا تھا، يہي وجہ تھي کہ وہ کال سے
اکيلے نکلتے ہوئے بہت گھبرارہي تھي اور جب آدھے راستے ميں پہنچ کر اس کي نظر دو
لفنگوں پر پڑي تو اس کے پيروں تلے سے زمين ہي نکل گئي، وہي آوارہ لڑکے تھے جو کافي
دنوں سے اسے اور نعيمہ کو تنگ کررہے تھے، نعيمہ ساتھ ہوتي تو بات تھي ليکن اب
تو۔۔۔۔اف يا خدا اب ميں کيا کرو گي۔۔وہ کانپتے قدموں سے آگے بڑھ گئي، خوف کے مارے
پسينہ اس کي ہتھيلياں بھگو گيا۔
اچانک اس کو محسوس ہوا کہ کوئي اس کے پيچھے آرہا ہے، پيچھے مڑ کر
ديکھا وہ دو لڑکے تھے وہ بوکھلائي ہوئي تيز تيز قدم اٹھائي جارہي تھي کہ ايک موٹر
بائيک تيزي سے اس کے بالکل قريب آکر رکي، کيا بات ہے ساحرہ اتني گھبرائي ہوئي کيوں
ہو؟ نويد بھائي کي مانوس آواز اس کے کانوں سے ٹکرائي تو وہ جھٹ بائيک کي پچھلي سيٹ
پر بيٹھ گئي اور جلد چلنے کو کہا، نويد نے وہاں کچھ پوچھنا مناسب نہيں سمجھا اور
موٹر سائيکل آگے بڑھا دي اور کچھ دور موجود پبلک پارک کے آگے جاکر روک دي، يہ آپ
مجھے کہاں لے آئے ہيں، اس نے پارک اور وہاں پر موجود لوگوں کو ديکھتے ہوئے پوچھا،
يہ سب باتين چھوڑ اور يہ بتائوں اتني گھبرائي ہوئي کيوں تھي، وہ جلد ہي مطلب کي بات
پر آگيا، وہ سر جھکائے ڈرتے ڈرتے ساري بات صاف گوئي سے کہہ گئي، تم نے مجھے وہيں
کيوں نہيں بتايا ان دونوں کا ايسا حال کرتا ساري عمر ياد رکھتے، نويد نے غصے ميں
کہا۔ |